کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت، چراغ بجھانے، برتن ڈھانپنے اور دروازے بند کرنے کی تاکید۔
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن السكن الواسطي، حَدَّثَنَا المثنَّى بن معاذ العَنبَري، حَدَّثَنَا معاذ بن هشام. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم وعُبيد الله بن سعيد ومحمد بن المثنَّى ومحمد بن بشَّار وعباس العَنبَري وإسحاق بن منصور؛ قال إسحاق بن إبراهيم: أخبرنا، وقال الآخرون: حَدَّثَنَا معاذ بن هشام، حدَّثني أَبي، عن قَتَادة، عن عبد الله بن سَرجِس، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "لا يَبولَنَّ أحدُكم في الجُحْر، وإذا نمتُم فأَطْفِئُوا السَّراجَ، فإِنَّ الفأرةَ تأخذ الفَتِيلةَ فتَحرِقُ على أهل البيت، وأَوْكُوا الأسقيةَ، وخَمِّروا الشَّراب، وأَغلِقوا الأبوابَ". فقيل لقتادة: وما يُكرَه من البول في الجُحْر؟ فقال: إنها مساكن الجنِّ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 666 - على شرطهما "" وَإِذَا نِمْتُمْ: أَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتُحْرِقُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ "". فَقِيلَ لِقَتَادَةَ وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ»
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے، اور جب تم سوؤ تو چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہا فتیلہ لے کر گھر والوں کو جلا دیتا ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور دروازے بند کر دیا کرو۔“ قتادہ سے پوچھا گیا کہ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ جنات کے رہنے کی جگہیں ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ہے کیونکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جبکہ قتادہ کا سیدنا عبد اللہ بن سرجس سے سماع ثابت ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 679
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 679] [ترقيم الشركة 671] [ترقيم العلميه 666]
حافظ طلحہ بابر
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ» ”تم میں سے کوئی بھی (زمین کے) سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے“، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ جنات کے رہنے کے مقامات ہوتے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر ہے کیونکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور قتادہ کا سماع صحابہ کی ایک جماعت سے ثابت ہے جو عاصم بن سلیمان کے سماع سے بھی وسیع تر ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 679N
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 679N] [ترقيم الشركة 672]