المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
النهي عن البول في الجحر تأكيد إطفاء السراج وتخمير الشراب وغلق الأبواب باب: سوراخ میں پیشاب کرنے کی ممانعت، چراغ بجھانے، برتن ڈھانپنے اور دروازے بند کرنے کی تاکید۔
حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن السكن الواسطي، حَدَّثَنَا المثنَّى بن معاذ العَنبَري، حَدَّثَنَا معاذ بن هشام. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم وعُبيد الله بن سعيد ومحمد بن المثنَّى ومحمد بن بشَّار وعباس العَنبَري وإسحاق بن منصور؛ قال إسحاق بن إبراهيم: أخبرنا، وقال الآخرون: حَدَّثَنَا معاذ بن هشام، حدَّثني أَبي، عن قَتَادة، عن عبد الله بن سَرجِس، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال: "لا يَبولَنَّ أحدُكم في الجُحْر، وإذا نمتُم فأَطْفِئُوا السَّراجَ، فإِنَّ الفأرةَ تأخذ الفَتِيلةَ فتَحرِقُ على أهل البيت، وأَوْكُوا الأسقيةَ، وخَمِّروا الشَّراب، وأَغلِقوا الأبوابَ". فقيل لقتادة: وما يُكرَه من البول في الجُحْر؟ فقال: إنها مساكن الجنِّ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 666 - على شرطهما "" وَإِذَا نِمْتُمْ: أَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتُحْرِقُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ، وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ "". فَقِيلَ لِقَتَادَةَ وَمَا يُكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ فَقَالَ: «إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ»حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے، اور جب تم سوؤ تو چراغ بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہا فتیلہ لے کر گھر والوں کو جلا دیتا ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور دروازے بند کر دیا کرو۔“ قتادہ سے پوچھا گیا کہ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں ناپسندیدہ ہے؟ انہوں نے کہا: وہ جنات کے رہنے کی جگہیں ہیں۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر ہے کیونکہ انہوں نے اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، جبکہ قتادہ کا سیدنا عبد اللہ بن سرجس سے سماع ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (20775) عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 34/ (20775) نے معاذ بن ہشام (الدستوائی) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بقصة النهي عن البول في الجحر فقط وقول قتادة: أبو داود (29)، والنسائي (30) من طريقين عن معاذ بن هشام، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود (29) اور امام نسائی (30) نے دو مختلف طریقوں سے معاذ بن ہشام کے واسطے سے روایت کیا ہے، جس میں صرف سوراخ (جحر) میں پیشاب کرنے کی ممانعت اور قتادہ کا قول مختصراً مذکور ہے۔
أوكُوا: من أوكيتَ الإناءَ؛ إذا شددتَ رأسه بالحبل.
نوٹ / توضیح: 'أوکُوا' کا لفظ 'اوکیت الاناء' سے ماخوذ ہے، اس کا مطلب ہے برتن کا منہ رسی یا دھاگے سے مضبوطی سے باندھ دینا۔
وخمِّروا: من التخمير، بمعنى التغطية.
نوٹ / توضیح: 'خمِّروا' کا لفظ تخمیر سے ہے، جس کے معنی کسی چیز کو ڈھانپنے (کور کرنے) کے ہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (20775) عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 34/ (20775) نے معاذ بن ہشام (الدستوائی) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بقصة النهي عن البول في الجحر فقط وقول قتادة: أبو داود (29)، والنسائي (30) من طريقين عن معاذ بن هشام، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود (29) اور امام نسائی (30) نے دو مختلف طریقوں سے معاذ بن ہشام کے واسطے سے روایت کیا ہے، جس میں صرف سوراخ (جحر) میں پیشاب کرنے کی ممانعت اور قتادہ کا قول مختصراً مذکور ہے۔
أوكُوا: من أوكيتَ الإناءَ؛ إذا شددتَ رأسه بالحبل.
نوٹ / توضیح: 'أوکُوا' کا لفظ 'اوکیت الاناء' سے ماخوذ ہے، اس کا مطلب ہے برتن کا منہ رسی یا دھاگے سے مضبوطی سے باندھ دینا۔
وخمِّروا: من التخمير، بمعنى التغطية.
نوٹ / توضیح: 'خمِّروا' کا لفظ تخمیر سے ہے، جس کے معنی کسی چیز کو ڈھانپنے (کور کرنے) کے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 679 سے ماخوذ ہے۔