حدیث نمبر: 635
أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفيد (1)، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا التُّستَري: وحدثنا عمرو بن الحُصَين، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله بن عُلَاثة، عن عَبْدة بن أبي لُبَابة، عن عبد الله بن باباهُ، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ: "تَنتَظِرُ النُّفَساءُ أربعين ليلةً، فإن رأَتِ الطُّهرَ قبلَ ذلك فهي طاهرٌ، وإن جاوزَتِ الأربعينَ فهي بمنزلة المُستَحاضَةِ تغتسلُ وتصلِّي، فإنْ غَلَبَها الدمُ توضّأت لكلِّ صلاة" (2). عمرو بن الحصين ومحمد بن عُلَاثة ليسا من شرط الشيخين، وإنما ذكرتُ هذا الحديث شاهدًا متعجبًا.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نفاس والی عورت چالیس راتیں انتظار کرے، اگر اس سے پہلے پاک ہو جائے تو وہ پاک ہے، اور اگر چالیس دن سے تجاوز کر جائے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے، وہ غسل کرے اور نماز پڑھے، اور اگر خون غالب رہے تو ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ عمرو بن حصین اور محمد بن علاثہ شیخین کی شرط پر نہیں ہیں لیکن میں نے اسے بطور شاہد ذکر کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، عمرو بن الحصين وابن عُلاثة قال الدارقطني: ضعيفان متروكان» [ترقيم الرساله 635] [ترقيم الشركة 630]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في (ب) إلى: الجنيد.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں تحریف (لکھاوٹ کی غلطی) کی وجہ سے نام "الجنید" ہو گیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا، عمرو بن الحصين وابن عُلاثة قال الدارقطني: ضعيفان متروكان.
درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف جداً" (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو بن الحصین اور ابن علاثہ کے بارے میں امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ یہ دونوں ضعیف اور متروک (جن کی روایت ترک کر دی جائے) ہیں۔
وأخرجه الدارقطني في "سننه" (858)، والطبراني في "الأوسط" (8311) من طريق موسى بن زكريا، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی نے (858) اور امام طبرانی نے "المعجم الاوسط" (8311) میں موسیٰ بن زکریا کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 635 سے ماخوذ ہے۔