کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى؛ قالا: حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن شُعبة، عن الحَكَم، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن، عن مقِسَم، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ في الذي يأتي امرأتَه وهي حائض - قال: "يتصدَّقُ بدينارٍ، أو بنصفِ دينار" (1).
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بمِقسَم بن نَجْدة (2)، فأما عبد الحميد بن عبد الرحمن فإنه أبو الحسن عبد الحميد بن عبد الرحمن الجَزَري (3)، ثقة مأمون. وشاهده ودليله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 612 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں قربت کر لے، فرمایا: ”وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے مقسم بن نجدہ سے احتجاج کیا ہے، جبکہ عبد الحمید بن عبد الرحمن ثقہ اور مامون ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 621
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا، رجاله ثقات، وقد روي مرفوعًا وموقوفًا، والموقوف أصحُّ كما هو مبيَّن في تعليقنا على "مسند أحمد" 3/ (2033) و "سنن ابن ماجه" (640)- أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، ومسدَّد: هو ابن مسرهَد البصري، ويحيى: هو ابن سعيد القطان، والحكم: هو ابن عتيبة-» [ترقيم الرساله 621] [ترقيم الشركة 616] [ترقيم العلميه 612]
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو ظَفَر عبد السلام بن مُطهَّر، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن علي بن الحَكَم البُنَاني، عن أبي الحسن الجَزَري، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: إذا أصابها في الدم فدينارٌ، وإذا أصابها في انقطاع الدم فنصفُ دينار (4). قد أُرسِلَ هذا الحديث، وأُوقف أيضًا، ونحن على أصلنا الذي أصَّلْناه أَنَّ القول قولُ الذي يُسنِدُ ويَصِلُ إذا كان ثقةً.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر (خون جاری رہنے کے) دورانِ حیض قربت کرے تو ایک دینار، اور اگر خون رک جانے کے بعد (غسل سے پہلے) کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے۔
یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے، لیکن ہمارا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی مسند اور متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 622
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة أبي الحسن الجزري كما سبق» [ترقيم الرساله 622] [ترقيم الشركة 617]
حدَّثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا مسدد بن قَطَن، عن عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا جَرِير، عن الشَّيباني، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يأمرُنا في فَوْر حَيضتِنا أن نَتَّزِرَ ثم يباشرُنا، وأيكم يملِكُ إرْبَه كما كان رسول الله ﷺ يملكُ إرْبَه؟ (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ! إنما خرَّجا في هذا الباب حديثَ منصور، عن إبراهيم، عن الأسود، عن عائشة: كان رسول الله ﷺ يأمر إحدانا إذا كانت حائضًا أن تتَّزرَ ثم يُضاجِعُها (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 614 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حیض کی شدت کے دنوں میں حکم دیتے کہ ہم تہبند باندھ لیں پھر آپ ﷺ ہم سے مباشرت (بغیر جماع کے بوس و کنار) فرماتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر ویسا قابو رکھ سکتا ہے جیسا رسول اللہ ﷺ رکھتے تھے؟
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، انہوں نے صرف اس ہم معنی روایت پر اتفاق کیا ہے کہ آپ ﷺ حائضہ کو تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 623
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد، والشيباني هو أبو إسحاق سليمان بن أبي سليمان، والأسود: هو ابن يزيد النَّخَعي» [ترقيم الرساله 623] [ترقيم الشركة 618] [ترقيم العلميه 614]