المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ باب: جو شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ کرے۔
حدیث نمبر: 622
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو ظَفَر عبد السلام بن مُطهَّر، حَدَّثَنَا جعفر بن سليمان، عن علي بن الحَكَم البُنَاني، عن أبي الحسن الجَزَري، عن مِقسَم، عن ابن عباس قال: إذا أصابها في الدم فدينارٌ، وإذا أصابها في انقطاع الدم فنصفُ دينار (4). قد أُرسِلَ هذا الحديث، وأُوقف أيضًا، ونحن على أصلنا الذي أصَّلْناه أَنَّ القول قولُ الذي يُسنِدُ ويَصِلُ إذا كان ثقةً.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اگر (خون جاری رہنے کے) دورانِ حیض قربت کرے تو ایک دینار، اور اگر خون رک جانے کے بعد (غسل سے پہلے) کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے۔
یہ حدیث مرسل اور موقوف بھی مروی ہے، لیکن ہمارا اصول یہی ہے کہ ثقہ راوی کی مسند اور متصل روایت ہی معتبر ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده ضعيف لجهالة أبي الحسن الجزري كما سبق.
درجۂ حدیث: ابوالحسن الجزری کے مجہول ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (265) و (2169) عن عبد السلام بن مطهَّر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (265) اور (2169) میں عبدالسلام بن مطہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: ابوالحسن الجزری کے مجہول ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (265) و (2169) عن عبد السلام بن مطهَّر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (265) اور (2169) میں عبدالسلام بن مطہر کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 622 سے ماخوذ ہے۔