کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر سردی میں زخم یا پھوڑے ہوں تو جنابت کے لیے تیمم کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حَدَّثَنَا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدَّثني أبي، أخبرني الوليد بن عُبيد الله بن أبي رباح، أنَّ عطاءً حدثه عن ابن عباس: أنَّ رجلًا أَجنَبَ في شتاء فسأل فأُمِرَ بالغُسْل، فاغتسل فمات، فذُكِرَ ذلك للنبي ﷺ، فقال: "ما لهم قَتَلُوه قتلهم الله - ثلاثًا - قد جَعَلَ اللهُ الصعيدَ - أو التيمُّمَ - طَهُورًا" (1).
هذا حديث صحيح، فإنَّ الوليد بن عبيد الله هذا ابن أخي عطاء بن أبي رباح، وهو قليل الحديث جدًّا، وقد رواه الأوزاعيُّ عن عطاءٍ، وهو مخرَّج بعد هذا (1). وله شاهد آخر عن ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 585 - صحيح
هذا حديث صحيح، فإنَّ الوليد بن عبيد الله هذا ابن أخي عطاء بن أبي رباح، وهو قليل الحديث جدًّا، وقد رواه الأوزاعيُّ عن عطاءٍ، وهو مخرَّج بعد هذا (1). وله شاهد آخر عن ابن عباس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 585 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص سردی کے موسم میں حالتِ جنابت میں تھا، اس نے (حکم) پوچھا تو اسے غسل کرنے کا کہا گیا، اس نے غسل کیا اور وہ مر گیا، جب نبی کریم ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”انہوں نے اسے قتل کر دیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، اللہ نے پاک مٹی کو (یا تیمم کو) پاکیزگی کا ذریعہ بنایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس کے راوی ولید بن عبید اللہ قلیل الحدیث ہیں مگر یہ روایت دیگر شواہد سے تقویت یافتہ ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس کے راوی ولید بن عبید اللہ قلیل الحدیث ہیں مگر یہ روایت دیگر شواہد سے تقویت یافتہ ہے۔
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن محمد، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس رفعه في قوله ﷿: ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ﴾ [النساء: 43] قال: "إذا كان بالرجلِ الجراحةُ في سبيل الله أو القُروحُ أو الجُدَريُّ، فيُجنِبُ فيخافُ إِن اغتسلَ أن يموت، فليتيمَّمْ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ﴾ [النساء: 43] کے بارے میں مروی ہے کہ اگر کسی شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگا ہو یا چیچک وغیرہ نکل آئے اور اسے غسل کی ضرورت ہو جائے، اور اسے اندیشہ ہو کہ غسل کرنے سے وہ مر جائے گا، تو وہ تیمم کر لے۔