کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کبھی رسولُ اللہ ﷺ سونے سے پہلے غسل فرماتے اور کبھی غسل سے پہلے سو جاتے۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب [ببغداد، حدثنا] (2) أبو الأحوَص محمد بن الهيثم القاضي، حدثنا سعيد بن كثير بن عُفَير ويحيى بن عبد الله بن بُكَير قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن أبي قيس قال: سألتُ عائشةَ قلت: كيف كان رسول الله ﷺ يَصنَعُ في الجنابة، أكان يغتسلُ قبلَ أن ينام، أو ينامُ قبل أن يغتسلَ؟ قالت: كلَّ ذلك قد كان يفعل، ربَّما اغتسل فنام، وربَّما توضأَ فنام، قلت: الحمد لله الذي جَعَلَ في الأمر سَعَةً (3). رواه مسلم في "الصحيح" عن قتيبة، ولم يذكر شواهدَه بألفاظها. وقد تابعه غُضَيف بن الحارث عن عائشة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 543 - رواه مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 543 - رواه مسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابی قیس بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ حالتِ جنابت میں کیا کیا کرتے تھے؟ کیا آپ ﷺ سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ ﷺ یہ دونوں کام کیا کرتے تھے، کبھی غسل فرما کر سو جاتے اور کبھی وضو فرما کر سو جاتے۔“ میں نے کہا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔“
امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے لیکن اس کے تمام شواہد اور الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔
امام مسلم نے اسے اپنی صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے لیکن اس کے تمام شواہد اور الفاظ ذکر نہیں فرمائے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان. وحدثنا أبو بكر بن أبي نصر الدارَبردي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سفيان، عن بُرْد بن سِنان، عن عُبادة بن نُسَيٍّ، عن غُضَيف بن الحارث قال: سألتُ عائشة عن غُسْل النبي ﷺ من الجنابة، فقالت: ربَّما اغتسلَ قبل أن ينامَ، وربَّما نام قبلَ أن يغتسل (1). تابعه كَهمَسُ بن الحسن عن بُرْد:
حافظ طلحہ بابر
غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم ﷺ کے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”بسا اوقات آپ ﷺ سونے سے پہلے غسل فرما لیتے اور کبھی غسل کرنے سے پہلے سو جاتے۔“
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن حمَّاد، حدثنا كَهمَس، عن أبي العلاء، عن عُبادة بن نُسَيٍّ، عن غُضَيف بن الحارث قال: قلت لعائشة: أكان رسولُ الله ﷺ إذا أصابه الجنابةُ اغتسل من أوله أو من آخره؟ قالت: ربما اغتسل من أولِه، وربما اغتسلَ من آخرِه، قلت: الله أكبرُ، الحمد لله الذي جَعَل في الأمر سَعَةً (2). وصلى الله على محمد وآله أجمعين.
حافظ طلحہ بابر
غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: ”کیا رسول اللہ ﷺ جب حالتِ جنابت میں ہوتے تو شروع ہی میں غسل کر لیتے تھے یا آخر میں؟“ انہوں نے فرمایا: ”کبھی آغاز ہی میں غسل فرما لیتے اور کبھی آخر میں غسل فرماتے۔“ میں نے (خوش ہو کر) کہا: ”اللہ اکبر! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔“