حدیث نمبر: 552
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن حمَّاد، حدثنا كَهمَس، عن أبي العلاء، عن عُبادة بن نُسَيٍّ، عن غُضَيف بن الحارث قال: قلت لعائشة: أكان رسولُ الله ﷺ إذا أصابه الجنابةُ اغتسل من أوله أو من آخره؟ قالت: ربما اغتسل من أولِه، وربما اغتسلَ من آخرِه، قلت: الله أكبرُ، الحمد لله الذي جَعَل في الأمر سَعَةً (2). وصلى الله على محمد وآله أجمعين.
حافظ طلحہ بابر

غضیف بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: ”کیا رسول اللہ ﷺ جب حالتِ جنابت میں ہوتے تو شروع ہی میں غسل کر لیتے تھے یا آخر میں؟“ انہوں نے فرمایا: ”کبھی آغاز ہی میں غسل فرما لیتے اور کبھی آخر میں غسل فرماتے۔“ میں نے (خوش ہو کر) کہا: ”اللہ اکبر! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 552
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن حماد: وهو الشُّعيثي» [ترقيم الرساله 552] [ترقيم الشركة 547]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الرحمن بن حماد: وهو الشُّعيثي. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله الكَشِّي، وأبو العلاء: هو برد بن سنان. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ خاص سند عبدالرحمن بن حماد الشعيثی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابومسلم سے مراد "ابراہیم بن عبداللہ الکشی" ہیں اور ابوالعلاء سے مراد "برد بن سنان" ہیں۔
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے اس سے پہلی والی روایت ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 552 سے ماخوذ ہے۔