حدثنا محمد بن صالح وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا إبراهيم بن الحجَّاج؛ قالا: حدثنا عبد الله بن المثنَّى الأنصاري، عن ثُمَامة، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ لم يَخلَعْ نَعلَيه في الصلاة قطُّ إلّا مرَّةً واحدةً خلع فخَلَعَ الناسُ، فقال: "ما لكم؟ " قالوا: خلعتَ فخلعنا، فقال: "إنَّ جبريلَ أخبرني أنَّ فيهما قَذَرًا - أو أذًى -" (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بعبد الله بن المثنَّى، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المشهور عن ميمون الأعور:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 486 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بعبد الله بن المثنَّى، ولم يُخرجاه. وشاهده الحديث المشهور عن ميمون الأعور:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 486 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز میں اپنے جوتے کبھی نہیں اتارے سوائے ایک مرتبہ کے، جب آپ ﷺ نے جوتے اتارے تو لوگوں نے بھی اتار دیے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا (جوتے کیوں اتارے)؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ نے اتارے تو ہم نے بھی اتار دیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی کہ ان میں گندگی (یا اذیت دہ چیز) لگی ہوئی ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبداللہ بن مثنیٰ سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد میمون الاعور کی مشہور حدیث ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے عبداللہ بن مثنیٰ سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا شاہد میمون الاعور کی مشہور حدیث ہے۔
حدَّثَناه محمد بن صالح وإبراهيم بن عِصْمة قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا علي بن عبد العزيز؛ قالا: حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا أبو حمزة، عن إبراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود قال: خَلَع النبيُّ ﷺ نعلَه [وهو يصلي، فخلعَ مَن خلفَه نعالَهم، فقال: "ما حَمَلَكم على خلع نعالِكم؟ " قالوا: رأيناك خلعتَ فخلعنا] فقال: "إنَّ جبريلَ أخبرني أنَّ [في أحدهما قَذَرًا، فخلعتُهما لذلك، فلا تَخلَعوا نعالَكم] (1) " (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز کے دوران اپنے جوتے اتار دیے تو آپ کے پیچھے موجود لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں جوتے اتارنے پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک جبرائیل نے مجھے بتایا کہ ان میں سے ایک میں گندگی لگی ہے، اس لیے میں نے انہیں اتارا، پس تم (بغیر وجہ کے) اپنے جوتے نہ اتارا کرو۔“