کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور بہترین طریقہ محمد ﷺ کا طریقہ ہے
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كَثِير، حدثنا سفيان عن الأعمش، عن مالك بن الحارث، عن عبد الله، مثلَه (2).
هذا حديث مُسنَد صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا في هذا النوع حديثَ أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله: وإنما هما اثنتان: الهَدْي والكلام، فأفضلُ الكلام كلامُ الله، وأحسنُ الهَدْي هديُ محمدٍ ﷺ … الحديث (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 352 - على شرطهما
هذا حديث مُسنَد صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه، إنما خرَّجا في هذا النوع حديثَ أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله: وإنما هما اثنتان: الهَدْي والكلام، فأفضلُ الكلام كلامُ الله، وأحسنُ الهَدْي هديُ محمدٍ ﷺ … الحديث (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 352 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (سابقہ قول کے مثل) مروی ہے۔
یہ ایک صحیح مسند حدیث ہے جو شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس نوعیت کی ابواسحاق کی روایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ”درحقیقت دو ہی چیزیں ہیں: ہدایت اور کلام، پس بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور بہترین ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے۔“
یہ ایک صحیح مسند حدیث ہے جو شیخین کی شرط پر ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، انہوں نے اس نوعیت کی ابواسحاق کی روایت نقل کی ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ”درحقیقت دو ہی چیزیں ہیں: ہدایت اور کلام، پس بہترین کلام اللہ کا کلام ہے اور بہترین ہدایت محمد ﷺ کی ہدایت ہے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا شعيب بن الليث، حدثنا الليث. وأخبرني عمرو بن محمد بن منصور العَدْل وأحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا الليث بن سعد، أخبرني سعيد بن أبي سعيد المَقْبُري، عن أخيه عبَّاد بن أبي سعيد، أنه سمع أبا هريرة يقول: كان رسول الله ﷺ يدعو فيقول: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من الأربع: من علمٍ لا يَنفَع، وقلبٍ لا يَخشَع، ونفسٍ لا تَشبَع، ودعاءٍ لا يُسمَع" (1).
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، فإنهما لم يُخرجا عبَّادَ بن أبي سعيد المَقْبُري، لا لجَرْح فيه بل لقِلَّة حديثه وقِلَّة الحاجة إليه. وقد رواه محمد بن عَجْلان عن سعيد المقبُري عن أبي هريرة، ولم يذكر أخاه عبَّادًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 354 - صحيح
هذا حديث صحيح ولم يُخرجاه، فإنهما لم يُخرجا عبَّادَ بن أبي سعيد المَقْبُري، لا لجَرْح فيه بل لقِلَّة حديثه وقِلَّة الحاجة إليه. وقد رواه محمد بن عَجْلان عن سعيد المقبُري عن أبي هريرة، ولم يذكر أخاه عبَّادًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 354 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَقَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» ”اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو (تیرے حضور) نہ جھکے، ایسی نفس سے جو سیر نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ان دونوں نے عباد بن ابی سعید مقبری سے روایت نہیں لی، ان پر کسی جرح کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی روایات کم ہونے اور ان کی ضرورت کم ہونے کی بنا پر۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ان دونوں نے عباد بن ابی سعید مقبری سے روایت نہیں لی، ان پر کسی جرح کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی روایات کم ہونے اور ان کی ضرورت کم ہونے کی بنا پر۔