کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب قیامت کا دن ہوگا تو رسولُ اللہ ﷺ تمام انبیاء کے امام اور خطیب ہوں گے۔
أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنظَلي، حدثنا عبد الله بن جعفر الرَّقِّي، حدثنا عبيد الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ قال: "إذا كان يوم القيامةِ كنتُ إمامَ النبيِّين وخطيبَهم وصاحبَ شفاعتِهم، غيرَ فَخْرٍ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 240 - صحيح الإسناد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 240 - صحيح الإسناد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو میں تمام انبیاء کا امام، ان کا ترجمان اور ان کی شفاعت کا صاحب (سفارشی) ہوں گا، اور یہ میں بطورِ فخر نہیں (بلکہ حقیقت کے اظہار کے طور پر) کہہ رہا ہوں۔“
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِيُّ بن خُزيمة، حدثنا أبو حُذيفة النَّهْدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطفيل ابن أُبي بن كعب، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إذا كان يومُ القيامةِ كنتُ إمامَ النبيِّينَ وخطيبَهم وصاحبَ شفاعتِهم، غيرَ فَخْرٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لتفرُّد عبد الله بن محمد بن عَقيل بن أبي طالب، ولمَا نُسِبَ إليه من سوء الحفظ، وهو عند المتقدِّمين من أئمَّتنا ثقةٌ مأمونٌ! (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه لتفرُّد عبد الله بن محمد بن عَقيل بن أبي طالب، ولمَا نُسِبَ إليه من سوء الحفظ، وهو عند المتقدِّمين من أئمَّتنا ثقةٌ مأمونٌ! (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو میں تمام انبیاء کا امام، ان کا خطیب اور ان کی شفاعت کا صاحب ہوں گا، اور یہ میں بطورِ فخر نہیں کہہ رہا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب کے (روایت میں) منفرد ہونے اور ان کی طرف منسوب سوءِ حفظ (یادداشت کی کمزوری) کی بنا پر روایت نہیں کیا، حالانکہ وہ ہمارے متقدمین ائمہ کے نزدیک ثقہ اور امانت دار ہیں!
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب کے (روایت میں) منفرد ہونے اور ان کی طرف منسوب سوءِ حفظ (یادداشت کی کمزوری) کی بنا پر روایت نہیں کیا، حالانکہ وہ ہمارے متقدمین ائمہ کے نزدیک ثقہ اور امانت دار ہیں!