کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ لعنت کرنے والا ہو
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب من أصل كتابه، حدثنا محمد بن سنان القَزَّاز، حدثنا أبو عامر العَقَدي، حدثنا كَثير بن زيد قال: سمعتُ سالمًا يحدِّث عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال: "لا ينبغي للمُؤمن أن يكون لعَّانًا" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مومن کے لیے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 146
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد من أجل محمد بن سنان القزاز، وقد توبع، ومن فوقه ثقات غير كثير بن زيد فإنه صدوق حسن الحديث» [ترقيم الرساله 146] [ترقيم الشركة 145]
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا الحسن بن مُكرَم البزَّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا كثير بن زيد، عن سالم، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لا ينبغي لمسلم أن يكونَ لعَانًا". قال سالمٌ: وما سمعتُ ابن عمر لَعَنَ شيئًا قطُّ" (3).
هذا حديث أسنده جماعةٌ من الأئمة عن كثير بن زيد، ثم أوقَفَه عنه حمَّادُ بن زيد وحده (1)، فأما الشيخان فإنهما لم يخرجا عن كثير بن زيد، وهو شيخٌ من أهل المدينة من أسلم كنيتُه أبو محمد، لا أعرفه يُجرَحُ في الرواية، وإنما تركاه لقلَّة حديثه، والله أعلم. ولهذا الحديث شواهدُ بألفاظ مختلفة، عن أبي هريرة وأبي الدَّرداء وسَمُرةَ بن جُندُب يَصِحُّ بمثلها الحديثُ على شرط الشيخين. فأما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 146 - أسنده عدة ووقفه حماد بن زيد فقط_x000D_ فَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے یہ لائق نہیں کہ وہ بہت زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔“ سالم کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی کسی چیز پر لعنت کرتے ہوئے نہیں سنا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے کثیر بن زید کے واسطے سے مسنداً بیان کیا ہے، پھر صرف حماد بن زید نے اسے ان سے موقوفاً روایت کیا ہے، رہا شیخین کا معاملہ تو انہوں نے کثیر بن زید سے روایت نہیں لی، وہ مدینہ کے ایک بزرگ ہیں اور ان کی کنیت ابو محمد ہے، میں نہیں جانتا کہ ان کی روایت پر کوئی جرح کی گئی ہو، انہوں نے اسے صرف ان کی احادیث کی قلت کی وجہ سے چھوڑا ہے، واللہ اعلم۔ اس حدیث کے مختلف الفاظ کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ، ابودرداء اور سمرہ بن جندب سے شواہد موجود ہیں جن کے ذریعے یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 147
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل كثير بن زيد» [ترقيم الرساله 147] [ترقيم الشركة 146] [ترقيم العلميه 146]