المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز کے تشہد کا بیان۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي بمكة من أصل كتابه، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة القَعنَبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أنَّ عمر بن الخطَّاب كان يُعلِّم الناسَ التشهُّدَ في الصلاة وهو يَخطُبُ الناسَ على مِنبَر رسول الله ﷺ، فيقول: إِذا تَشهَّدَ أحدُكم فليقل: باسمِ الله خيرِ الأسماءِ، التحياتُ الزاكياتُ الصلواتُ الطيِّباتُ لله، السلامُ عليك أيها النبيُّ ورحمةُ الله وبركاتُه، السلام علينا وعلى عبادِ الله الصالحين، أشهدُ أن لا إله إلّا الله وحده لا شريكَ له وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه. قال عمر: ابدَؤوا بأنفسِكم بعدَ رسول الله ﷺ وسَلِّموا على عبادِ الله الصالحين (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، وإنما ذكرتُه لأن له شواهدَ على ما شَرَطْنا في الشواهد التي يُشهَد على سندها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 980 - على شرط مسلم وله شواهدسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو نماز کا تشہد سکھاتے تھے اور فرماتے تھے: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے تو یوں کہے: «بِاسْمِ اللَّهِ خَيْرِ الْأَسْمَاءِ، التَّحِيَّاتُ الزَّاكِيَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» "اللہ کے نام سے جو بہترین نام ہے، تمام قولی، پاکیزہ، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔" سیدنا عمر نے یہ بھی فرمایا: رسول اللہ ﷺ پر سلام بھیجنے کے بعد اپنی ذات سے آغاز کرو اور پھر اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی بھیجو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور میں نے اسے اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ اس کے شواہد موجود ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر یہ سند "مرسل" ہے۔
علّت / فنی نکتہ: عروہ بن زبیر نے حضرت عمر بن خطاب کا زمانہ نہیں پایا، وہ یہ روایت دراصل عبدالرحمن بن عبد القاری سے بیان کرتے ہیں۔
وأخرجه البيهقي 2/ 142 عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (142/2) نے امام حاکم کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي أيضًا 2/ 143 من طريق محمد بن إسحاق، عن ابن شهاب الزهري وهشام ابن عروة، عن عروة، عن عبد الرحمن بن عبدٍ القاري، عن عمر إلا أن ذكر التسمية في حديث الزهري رواية شاذّة، خالف فيها ابنُ إسحاق ثقاتَ أصحاب الزهري كمالك وغيره كما في الحديث السابق.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے محمد بن اسحاق کی سند سے عروہ عن عبدالرحمن القاری عن عمر کی سند سے "متصل" روایت کیا ہے، مگر زہری کی روایت میں "بسم اللہ" کا ذکر کرنا "شاذ" ہے، کیونکہ ابن اسحاق نے زہری کے ثقہ شاگردوں (مثلاً امام مالک) کی مخالفت کی ہے۔