المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
الدُّعَاءُ الْمُبَارَكَةُ باب: برکت والی دعا کا بیان۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر قال: قُرِئَ على ابن وهب: أخبرَك مالكُ بن أنس ويونسُ بن زيد وعمرُو بن الحارث، أنَّ ابن شِهَاب حدَّثهم عن عُرْوة بن الزُّبير، عن عبد الرحمن بن عبدٍ القارِيِّ: أَنه سَمِعَ عمرَ بن الخطَّاب يُعلِّمُ الناسَ التشهُّدَ على المِنبَر فيقول: قولوا: التحيَّاتُ الله الزاكياتُ لله الطيباتُ لله، السلامُ عليك أيُّها النبيُّ ورحمةُ الله وبَرَكاتُه، السلامُ علينا وعلى عبادِ الله الصالحين، أشهَدُ أن لا إله إلَّا الله، وأشهَدُ أنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه (2).
عبد الرحمن بن عبد القاری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو منبر پر لوگوں کو تشہد سکھاتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: تم یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ، الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» "تمام قولی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، تمام پاکیزہ عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، تمام مالی عبادتیں اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔"
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البيهقي 2/ 144 عن أبي عبد الله الحاكم وآخرين، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (144/2) نے امام حاکم اور دیگر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطحاوي في "مشكل الآثار" (380)، و"معاني الآثار" 1/ 261 عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، به. إلّا أنه لم يذكر فيه يونس بن يزيد.
حوالہ / مصدر: اسے طحاوی نے "مشکل الآثار" (380) اور "معانی الآثار" (261/1) میں ابن وہب کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں یونس بن یزید کا ذکر نہیں ہے۔
وهو عند مالك في "موطئه" برواية يحيى الليثي 1/ 90، وبرواية ابن وهب عنه عند الطحاوي في "المشكل" (3805)، ورواه عن مالك أيضًا الشافعي في "الرسالة" (738).
ورواه عن الزهري أيضًا كرواية هؤلاء معمرٌ فيما أخرجه عبد الرزاق (3067)، وابن أبي شيبة 1/ 293، والبيهقي 2/ 144.
حوالہ / مصدر: یہ امام مالک کی "موطأ" (روایت یحییٰ لیثی 90/1) میں موجود ہے، اور موطأ ہی کی روایت سے طحاوی نے "المشکل" (3805) میں اور امام شافعی نے "الرسالہ" (738) میں اسے نقل کیا ہے۔
فنی نکتہ: معمر نے بھی امام زہری سے ان ائمہ کی طرح روایت کیا ہے (عبدالرزاق 3067)۔