المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
لِيَسْتُرْ أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ وَلَوْ بِسَهْمٍ باب: تم میں سے ہر شخص اپنی نماز کے لیے سترہ قائم کرے، چاہے تیر ہی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 940
حدثنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن الأَصَمِّ ببغداد، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عثمان الشَّحّام، عن مُسلِم بن أبي بَكْرة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ كان يقول في دُبُر الصلاة: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من الكُفْر والفَقْر، وعذابِ القَبْر" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتَجَّ بإسناده سواءً: "ستكون فتِنةٌ القاعدُ فيها خيرٌ من القائم" (3)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 927 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ» "اے اللہ! میں کفر، فقر اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد. وسلف تخريجه برقم (99)، وانظر ما سيأتي برقم (1975).
درجۂ حدیث: (2) سند قوی ہے۔
فنی نکتہ: ابوقلابہ سے مراد عبدالملک بن محمد اور ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد ہیں۔ یہ پہلے نمبر (99) پر گزر چکی ہے، آگے نمبر (1975) پر بھی آئے گی۔
(3) أخرجه مسلم في "صحيحه" برقم (2887) من طرق عن عثمان الشحام عن مسلم بن أبي بكرة عن أبيه.
حوالہ / مصدر: (3) یہ امام مسلم (2887) کے ہاں عثمان الشحام عن مسلم بن ابی بکرہ عن ابیہ کی سند سے موجود ہے۔
درجۂ حدیث: (2) سند قوی ہے۔
فنی نکتہ: ابوقلابہ سے مراد عبدالملک بن محمد اور ابوعاصم سے مراد الضحاک بن مخلد ہیں۔ یہ پہلے نمبر (99) پر گزر چکی ہے، آگے نمبر (1975) پر بھی آئے گی۔
(3) أخرجه مسلم في "صحيحه" برقم (2887) من طرق عن عثمان الشحام عن مسلم بن أبي بكرة عن أبيه.
حوالہ / مصدر: (3) یہ امام مسلم (2887) کے ہاں عثمان الشحام عن مسلم بن ابی بکرہ عن ابیہ کی سند سے موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 940 سے ماخوذ ہے۔