المستدرك على الصحيحين
كتاب الأشربة— پینے کے احکام
شَأْنُ نُزُولِ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ باب: آیت "ان لوگوں پر کوئی گناہ نہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے" کے شانِ نزول کا بیان
حدیث نمبر: 7411
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهران حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن سماك بن حرب، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: لما نزلَ تحريم الخمر قالوا يا رسولَ الله، كيف إخوانُنا الذين ماتوا وهم يشربونها؟ قال: فنزلَتْ: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ الآية [المائدة: 93] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7225 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب شراب کی تحریم کا حکم نازل ہوا تو لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے ان بھائیوں کا کیا بنے گا جو اس حال میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیتے تھے؟ راوی کہتے ہیں: تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان پر اس چیز کا کوئی گناہ نہیں جو انہوں نے (حکم آنے سے پہلے) کھایا پیا۔“ [سورة المائدة: 93]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل سماك بن حرب. إسرائيل: هو ابن يونس السبيعي.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور سماک بن حرب کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: اسرائیل سے مراد اسرائیل بن یونس السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (2088) و 4/ (2452) و (2691) و (2774)، والترمذي (3052) من طرق عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 3/ (2088) اور 4/ (2452، 2691، 2774) میں، اور ترمذی نے (3052) میں اسرائیل بن یونس کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔
وهو بعض الحديث السالف عند المصنف برقم (7405).
اہم نکتہ: یہ مصنف کے ہاں سابقہ حدیث نمبر (7405) کا ایک حصہ ہے۔
ويشهد له حديث أنس عند البخاري (2464)، ومسلم (1980).
متابعات و شواہد: اس روایت کی تائید میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے جسے امام بخاری نے (2464) اور امام مسلم نے (1980) میں روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور سماک بن حرب کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: اسرائیل سے مراد اسرائیل بن یونس السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 3/ (2088) و 4/ (2452) و (2691) و (2774)، والترمذي (3052) من طرق عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 3/ (2088) اور 4/ (2452، 2691، 2774) میں، اور ترمذی نے (3052) میں اسرائیل بن یونس کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" کہا ہے۔
وهو بعض الحديث السالف عند المصنف برقم (7405).
اہم نکتہ: یہ مصنف کے ہاں سابقہ حدیث نمبر (7405) کا ایک حصہ ہے۔
ويشهد له حديث أنس عند البخاري (2464)، ومسلم (1980).
متابعات و شواہد: اس روایت کی تائید میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے جسے امام بخاری نے (2464) اور امام مسلم نے (1980) میں روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7411 سے ماخوذ ہے۔