حدیث نمبر: 581
حدَّثَناه أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو مَعشَر الحسن بن سليمان الدارمي، حدثنا نصر بن علي، حدثنا أبي، حدثنا قُرَّة بن خالد، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ قال: "طُهورُ إناءِ أحدِكم إذا وَلَغَ فيه الكلبُ أن يُغسَلَ سبعَ مرات، أُولاهنَّ بالتُّراب". ثم ذكر أبو هريرة الهرَّ، لا أدري قال: مرةً أو مرتين. قال نصر بن علي: وجدتُه في كتاب أَبي في موضع آخر: عن قُرَّة عن ابن سِيرِين عن أبي هريرة في الكلب مُسنَدًا وفي الهرِّ موقوفًا (2). تابعه في توقيف ذِكْر الهرِّ مسلمُ بن إبراهيم عن قرة:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے برتن کی پاکیزگی جب اس میں کتا منہ ڈال دے یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے، جن میں سے پہلی بار مٹی سے ہو۔“ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بلی کا ذکر کیا، (راوی کہتے ہیں) مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے ایک بار کہا یا دو بار۔ نصر بن علی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کی کتاب میں ایک اور جگہ پایا کہ کتے والی روایت مرفوع (نبی ﷺ کا فرمان) ہے جبکہ بلی والی روایت موقوف (صحابی کا قول) ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 581
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو محمد المزني شيخ المصنف: اسمه أحمد بن عبد الله بن محمد المزني الحافظ» [ترقيم الرساله 581] [ترقيم الشركة 576]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو محمد المزني شيخ المصنف: اسمه أحمد بن عبد الله بن محمد المزني الحافظ.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ ابو محمد المزنی کا پورا نام احمد بن عبداللہ بن محمد المزنی الحافظ ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 1/ 247، و"الخلافيات" (922) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے اپنی "السنن" (1/ 247) اور "الخلافیات" (922) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 581 سے ماخوذ ہے۔