المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
طَهُورُ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ سَبْعُ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ . باب: کتے کے برتن میں منہ ڈالنے سے برتن کو سات مرتبہ دھونا، پہلی بار مٹی سے۔
حدیث نمبر: 580
أخبرَناه أبو محمد المُزَني، حدثنا قاسم بن زكريا المقرئ، حدثنا علي بن مُسلِم، حدثنا أبو عاصم، حدثنا قُرَّة بن خالد، حدثنا محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ في الهرَّة: "مرةً - أو مرتين -"؛ يعني: غسلَ الإناءِ إِذا وَلَغَ فيه الهرة (1). وقد شَفَى عليُّ بن نصر الجَهْضَمي عن قُرَّة في بيان هذه اللفظة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”(برتن کو) ایک یا دو بار (دھو لیا جائے)۔“ یعنی اگر بلی برتن میں منہ ڈال دے تو اسے ایک یا دو بار دھونا کافی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الكلب.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں تحریف ہو گئی ہے اور "الہر" (بلی) کی جگہ غلطی سے "الکلب" (کتا) لکھ دیا گیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں یہاں تحریف ہو گئی ہے اور "الہر" (بلی) کی جگہ غلطی سے "الکلب" (کتا) لکھ دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 580 سے ماخوذ ہے۔