المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
مَا يَقُولُ إِذَا خَرَجَ الْغَائِطُ باب: قضائے حاجت سے نکلنے کے بعد کیا دعا پڑھے۔
حدیث نمبر: 572
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو [حدثنا يحيى بن أبي بُكَير] (3) حدثنا إسرائيل، عن يوسف بن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ إذا قام من الغائط قال: "غُفرانَك".
هذا حديث صحيح، فإنَّ يوسف بن أبي بُرْدة من ثقاتِ آل أبي موسى، ولم نَجِدْ أحدًا يَطعُن فيه، وقد ذكر سماعَ أبيه من عائشة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 563 - صحيح ويوسف ثقةحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت الخلا سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے: «غُفْرَانَكَ» ”(اے اللہ!) میں تیری بخشش کا طلب گار ہوں۔“
یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ یوسف بن ابی بردہ آلِ ابو موسیٰ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں اور ان کے والد کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) ما بين المعقوفين مكانه بياض في الأصول، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 1/ 97 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان والی جگہ اصل میں خالی تھی، جسے بیہقی (1/ 97) سے مکمل کیا گیا جہاں انہوں نے اسے امام حاکم کی سند سے نقل کیا ہے۔
وهو من طريق يحيى بن أبي بكير عند ابن ماجه (300)، والنسائي (9724)، وابن حبان (1444).
حوالہ / مصدر: یہ روایت یحییٰ بن ابی بکیر کے طریق سے ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان کے ہاں موجود ہے۔
اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان والی جگہ اصل میں خالی تھی، جسے بیہقی (1/ 97) سے مکمل کیا گیا جہاں انہوں نے اسے امام حاکم کی سند سے نقل کیا ہے۔
وهو من طريق يحيى بن أبي بكير عند ابن ماجه (300)، والنسائي (9724)، وابن حبان (1444).
حوالہ / مصدر: یہ روایت یحییٰ بن ابی بکیر کے طریق سے ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان کے ہاں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 572 سے ماخوذ ہے۔