المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
النَّهْيُ عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ باب: درندوں کی کھالوں کے استعمال سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 513
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة عن قَتَادة، عن أبي المَلِيح، عن أبيه قال: نهى رسول الله ﷺ عن جُلود السِّبَاع (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوملیح رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا اسامہ بن عمیر) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھالوں (کے استعمال) سے منع فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده قوي.
وأخرجه أحمد 34/ (20706) و (20712)، وأبو داود (4132)، والترمذي (1770)، والنسائي (4565) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد - زاد الترمذي: أن تُفترش.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی (مضبوط) ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند احمد" 34/ (20706) اور (20712) میں، ابوداؤد نے (4132)، ترمذی نے (1770) اور نسائی نے (4565) میں سعید بن ابی عروبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: امام ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ: "اسے (درندے کی کھال کو) بچھایا جائے"۔
وروي عن أبي المليح عن النبي ﷺ مرسلًا كما عند الترمذي (1771) وغيره، وهو الذي رجَّحه الترمذي.
فنی نکتہ / علّت: یہ روایت ابوملیح (عامر بن اسامہ) سے نبی کریم ﷺ کے واسطے سے "مرسل" بھی مروی ہے جیسا کہ امام ترمذی (1771) وغیرہ کے ہاں موجود ہے۔
اہم نکتہ: امام ترمذی نے اسی "مرسل" طریق کو ہی (موصول پر) ترجیح دی ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (20706) و (20712)، وأبو داود (4132)، والترمذي (1770)، والنسائي (4565) من طرق عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد - زاد الترمذي: أن تُفترش.
درجۂ حدیث: اس کی سند قوی (مضبوط) ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند احمد" 34/ (20706) اور (20712) میں، ابوداؤد نے (4132)، ترمذی نے (1770) اور نسائی نے (4565) میں سعید بن ابی عروبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: امام ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ: "اسے (درندے کی کھال کو) بچھایا جائے"۔
وروي عن أبي المليح عن النبي ﷺ مرسلًا كما عند الترمذي (1771) وغيره، وهو الذي رجَّحه الترمذي.
فنی نکتہ / علّت: یہ روایت ابوملیح (عامر بن اسامہ) سے نبی کریم ﷺ کے واسطے سے "مرسل" بھی مروی ہے جیسا کہ امام ترمذی (1771) وغیرہ کے ہاں موجود ہے۔
اہم نکتہ: امام ترمذی نے اسی "مرسل" طریق کو ہی (موصول پر) ترجیح دی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 513 سے ماخوذ ہے۔