المستدرك على الصحيحين
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
الدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ اللَّمْسَ مَا دُونَ الْجِمَاعِ وَالْوُضُوءُ مِنْهُ باب: دلیل کہ جماع کے بغیر محض لمس سے وضو لازم نہیں۔
حدیث نمبر: 475
ما أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عبد الله، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، أنَّ عمر بن الخطاب قال: إنَّ القُبْلة من اللَّمْس، فتوضؤوا منها (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بوسہ دینا بھی ”لمس“ (چھونے) میں شامل ہے، لہٰذا اس سے وضو کیا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 1/ 124 عن محمد بن عبد الله الحافظ - وهو الحاكم - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" 1/ 124 میں محمد بن عبداللہ الحافظ (جو کہ امام حاکم ہیں) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 1/ 124 عن محمد بن عبد الله الحافظ - وهو الحاكم - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" 1/ 124 میں محمد بن عبداللہ الحافظ (جو کہ امام حاکم ہیں) کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 475 سے ماخوذ ہے۔