حدیث نمبر: 474
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأَسْفاطي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله في قوله ﷿: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ [النساء: 43]، قال: هو ما دونَ الجِمَاع، وفيه الوضوء (2).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ عزوجل کے ارشاد: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾ ”یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو“ [سورة النساء: 43] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: اس سے مراد جماع سے کم تر عمل ہے، اور اس (ایسے چھونے) سے وضو لازم آتا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 474
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، رجاله لا بأس بهم، إلّا أنه مرسل، كما قال البيهقي في "الخلافيات" بإثر (429)، فأبو عبيدة - وهو ابن عبد الله بن مسعود - لم يسمع من أبيه، ثم قال: وقد رويناه بإسناد آخر صحيح موصول، وساقه (430) من طريق شعبة عن مخارق الأحمسي عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود-» [ترقيم الرساله 474] [ترقيم الشركة 469]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) خبر صحيح، رجاله لا بأس بهم، إلّا أنه مرسل، كما قال البيهقي في "الخلافيات" بإثر (429)، فأبو عبيدة - وهو ابن عبد الله بن مسعود - لم يسمع من أبيه، ثم قال: وقد رويناه بإسناد آخر صحيح موصول، وساقه (430) من طريق شعبة عن مخارق الأحمسي عن طارق بن شهاب عن عبد الله بن مسعود.
درجۂ حدیث: یہ خبر (روایت) صحیح ہے اور اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں، سوائے اس کے کہ یہ "مرسل" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام بیہقی نے "الخلافیات" (429 کے بعد) میں فرمایا ہے کہ ابو عبیدہ (بن عبداللہ بن مسعود) نے اپنے والد سے نہیں سنا۔
متابعات و شواہد: بیہقی مزید فرماتے ہیں کہ ہم نے اسے ایک دوسری صحیح اور "موصول" سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے، جسے انہوں نے (430) پر شعبہ عن مخارق احمسی عن طارق بن شہاب عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریق سے بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 474 سے ماخوذ ہے۔