المستدرك على الصحيحين
كتاب العلم— علم کا بیان
مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ باب: جو شخص جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا، اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا۔
حدیث نمبر: 408
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو صالح، حدثني الليث، حدثني يحيى بن سعيد قال: كَتَبَ إليَّ خالدُ بن أبي عِمران قال: حدثني نافع، عن عبد الله بن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "من خَرَجَ من الجماعةِ قِيدَ شِبْرٍ، فقد خَلَعَ رِبْقةَ الإسلام من عُنقِه حتى يُراجِعَه"، وقال: "من مات وليس عليه إمامُ جماعةٍ، فإِنَّ مَوْتتَه مَوتةٌ جاهليَّة" (2). الحديث الرابع فيما يدلُّ على أنَّ إجماع العلماء حُجَّة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 403 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص جماعت سے ایک بالشت برابر بھی باہر نکلا، اس نے اسلام کا پٹہ اپنی گردن سے اتار دیا جب تک کہ وہ رجوع نہ کر لے“، اور فرمایا: ”جو اس حال میں مرا کہ اس پر جماعت کا کوئی امام نہ تھا، تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔“
یہ متن شیخین کی شرط پر صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله، أبو صالح - وهو عبد الله بن صالح كاتب الليث - حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وهذا الحديث منها، وقد سلف عند المصنف برقم (261).
ويشهد له ما في الحديثين السابق واللاحق.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند کے راوی ابو صالح (عبد اللہ بن صالح، کاتبِ لیث) متابعات اور شواہد میں "حسن الحدیث" قرار پاتے ہیں اور یہ حدیث بھی انہی میں سے ہے، نیز یہ مصنف کے ہاں پہلے نمبر (261) پر گزر چکی ہے۔
متابعات و شواہد: اس کی تائید اس سے پچھلی اور اگلی دونوں احادیث سے ہوتی ہے۔
ويشهد له ما في الحديثين السابق واللاحق.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور ان شاء اللہ اس کی سند "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند کے راوی ابو صالح (عبد اللہ بن صالح، کاتبِ لیث) متابعات اور شواہد میں "حسن الحدیث" قرار پاتے ہیں اور یہ حدیث بھی انہی میں سے ہے، نیز یہ مصنف کے ہاں پہلے نمبر (261) پر گزر چکی ہے۔
متابعات و شواہد: اس کی تائید اس سے پچھلی اور اگلی دونوں احادیث سے ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 408 سے ماخوذ ہے۔