حدیث نمبر: 2600
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضر بن شُميل، أخبرنا شعبة. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عُمير، عن عطية القُرظي، قال: عُرضتُ على رسول الله ﷺ يوم قريظة، فشَكُّوا فيَّ، فأمر النبي ﷺ أن يُنظر إليَّ هل أَنبَتُّ؟ فنظروا إلىَّ، فلم يجدوني أنبتُّ، فخلَّى عني والحقَني بالسَّبْي (1). حديث رواه جماعة من أئمة المسلمين عن عبد الملك بن عُمير، ولم يُخرجاه، وكأنهما لم يتأمّلا متابعة مجاهد بن جَبْر عبدَ الملك على روايته عن عطية القُرَظي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2568 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے بنو قریظہ (کے فیصلے) کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، انہیں میرے بارے میں شک تھا (کہ میں بالغ ہوں یا نہیں)، تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ دیکھا جائے کہ کیا میرے زیرِ ناف بال نکل آئے ہیں؟ انہوں نے دیکھا تو ابھی بال نہیں نکلے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھے قیدیوں (سَبْی) میں شامل کر دیا۔
اس حدیث کو ائمہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، گویا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مجاہد بن جبر نے اس روایت میں عبدالملک بن عمیر کی متابعت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2600
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2600] [ترقيم الشركة 2583] [ترقيم العلميه 2568]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18776)، وأبو داود (4404)، وابن ماجه (2541)، والترمذي (1584)، والنسائي (8567) من طريق سفيان الثَّوري، وأحمد 32/ (19421) و 37/ (22659)، وابن حبان (4780) من طريق هُشَيم بن بشير، وأبو داود (4405)، والنسائي (8566)، وابن حبان (4783) من طريق أبي عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري وابن حبان (4781) و (4788) من طريق جرير بن عبد الحميد، كلهم عن عبد الملك بن عمير، به.
متابعات و شواہد: اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد (4404)، ابن ماجہ (2541)، ترمذی (1584)، نسائی (8567) اور ابن حبان نے سفیان ثوری، ہشیم بن بشیر، ابو عوانہ الوضاح اور جریر بن عبد الحمید کے مختلف طرق سے عبد الملک بن عمیر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (4380) من طريق حماد بن سلمة، وبرقم (8372) من طريق سفيان ابن عُيينة، كلاهما عن عبد الملك.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے چل کر نمبر (4380) پر حماد بن سلمہ اور نمبر (8372) پر سفیان بن عیینہ (دونوں عن عبد الملک) کے طریق سے آئے گی۔
وسيأتي قبله برقم (8371) من طريق مجاهد، عن عطية القرظي.
تفصیلِ روایت: اس سے پہلے نمبر (8371) پر یہ روایت مجاہد عن عطیہ قرظی کے طریق سے آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2600 سے ماخوذ ہے۔