حدیث نمبر: 2601
كما حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن يعقوب أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب وأخبرني ابن جُرَيج وابن عُيينة، عن ابن أبي نَجيح، عن مجاهد، عن عطيةَ رجلٍ من بني قُريظة أخبره: أنَّ أصحاب رسول الله ﷺ جَرَّدُوه يوم قُريظة فلم يَرُوا المَوَاسي جَرَتْ على شعره - يعني عانَتَه - تركوه مِن القتل (2). فصار الحديث بمتابعة مجاهد صحيحًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2569 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

مجاہد سے روایت ہے کہ بنو قریظہ کے ایک شخص عطیہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے بنو قریظہ کے دن ان کے کپڑے اتار کر (بالوں کا) جائزہ لیا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے زیرِ ناف بالوں پر ابھی استرا نہیں چلا تھا (یعنی وہ ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے) تو انہوں نے انہیں قتل کرنے سے چھوڑ دیا۔
پس یہ حدیث مجاہد کی متابعت کی وجہ سے شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2601
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد سمع مجاهد من عطية هذا الخبر، كما صرَّح بذلك عند أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (5534). ابن وهب هو عبد الله، وابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن عُيينة: هو سفيان، وابن أبي نجيح: هو عبد الله.» [ترقيم الرساله 2601] [ترقيم الشركة 2584] [ترقيم العلميه 2569]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح، وقد سمع مجاهد من عطية هذا الخبر، كما صرَّح بذلك عند أبي نعيم في "معرفة الصحابة" (5534). ابن وهب هو عبد الله، وابن جُرَيج هو عبد الملك بن عبد العزيز، وابن عُيينة: هو سفيان، وابن أبي نجيح: هو عبد الله.
درجۂ حدیث: سند صحیح ہے، اور مجاہد نے عطیہ سے اس خبر کے سماع کی صراحت ابو نعیم کی "معرفۃ الصحابہ" (5534) میں کی ہے۔
ناموں کی تحقیق: ابن وہب سے مراد عبد اللہ بن وہب، ابن جریج سے مراد عبد الملک بن عبد العزیز، ابن عیینہ سے مراد سفیان بن عیینہ اور ابن ابی نجیح سے مراد عبد اللہ بن ابی نجیح ہیں۔
وأخرجه النسائي (8565) عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، عن ابن جُرَيج وحده، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کی تخریج امام نسائی (8565) نے یونس بن عبد الاعلیٰ بحوالہ عبد اللہ بن وہب، صرف ابن جریج کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2601 سے ماخوذ ہے۔