حدیث نمبر: 2544
حدَّثَناه محمد بن صالح، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى وحدثنا علي بن عيسى، حدثنا محمد بن عمرو الحَرَشي؛ قالا: حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا أبو إسحاق، عن المهلَّب بن أبي صُفْرة، قال: سمعتُ مَن يحدِّث عن النبي ﷺ، قال: قال وهو يخاف أن يُبيَّته أبو سفيان، فقال: "إن بُيَّتُّم فإِنَّ دَعوتكم حمَ لا يُنصرون" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، إلَّا أنَّ فيه إرسالًا (3)، فإذا الرجلُ الذي لم يُسمِّه المُهلّبُ بن أبي صُفْرة البراءٌ بنُ عازب:
حافظ طلحہ بابر

مہلب بن ابی صفرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کرنے والے شخص سے سنا کہ آپ ﷺ اس اندیشے کے پیشِ نظر کہ ابوسفیان شب خون مارے گا، فرمایا: ”اگر تم پر رات کو حملہ کیا جائے تو تمہاری پکار «حم لَا يُنْصَرُونَ» ہونی چاہیے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگراس میں ارسال ہے، پس وہ شخص جس کا نام مہلب بن ابی صفرہ نے نہیں لیا وہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2544
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن زهيرًا - وهو ابن معاوية - ممّن سمع من أبي إسحاق - وهو عمرو بن عبد الله السَّبِيعي - بعد تَغيُّره، ولذلك اختُلف عليه في وصل هذا الحديث وإرساله على أنَّ وصله ثابت من رواية سفيان الثَّوري وشريك النخعي، وهما من أثبت الناس في أبي إسحاق السَّبيعي.» [ترقيم الرساله 2544] [ترقيم الشركة 2527]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن زهيرًا - وهو ابن معاوية - ممّن سمع من أبي إسحاق - وهو عمرو بن عبد الله السَّبِيعي - بعد تَغيُّره، ولذلك اختُلف عليه في وصل هذا الحديث وإرساله على أنَّ وصله ثابت من رواية سفيان الثَّوري وشريك النخعي، وهما من أثبت الناس في أبي إسحاق السَّبيعي.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور راوی ثقات ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: زہیر نے ابواسحاق سے ان کے اختلاط (تغیر) کے بعد سنا تھا، اس لیے ان کی روایت میں وصل و ارسال کا اختلاف ہوا، مگر ثوری اور شریک کی روایات سے اس کا 'موصول' ہونا ثابت ہے۔
وأخرجه النسائي (10379) من طريق الحسين بن عيّاش الجزري، عن زهير بن معاوية، عن أبي إسحاق، عن المهلب بن أبي صفرة، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: نسائی نے اسے حسین بن عیاش کے طریق سے 'مرسلًا' روایت کیا ہے۔
وتابع حُسينًا على الإرسال يحيى بن آدم عند ابن أبي شيبة 14/ 414.
متابعات و شواہد: یحییٰ بن آدم نے بھی ابن ابی شیبہ میں اس کے مرسل ہونے کی تائید کی ہے۔
(3) كذا أطلق الحاكم على إبهام الصحابي اسمَ الإرسال، مع أنَّ الإرسال في عُرف جمهور المحدثين يُطلق على ما لم يُذكر فيه الصحابيُّ أو غيره، لا على ما ذكر مُبهمًا!!
اہم نکتہ: امام حاکم نے صحابی کے مبہم ہونے کو "ارسال" کہہ دیا ہے، جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک ارسال وہ ہے جہاں صحابی کا ذکر ہی نہ ہو، نہ کہ جہاں وہ مبہم مذکور ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2544 سے ماخوذ ہے۔