المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
دُعَاءُ الْغَازِي عِنْدَ بَيْتُوتَتِهِ باب: مجاہد کے رات گزارنے کے وقت کی دعا
حدیث نمبر: 2543
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس، حدثنا أبو نُعيم. وأخبرنا أبو العباس المَحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كثير. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن أبي نصر المروَزي، قالا: أخبرنا محمد ابن غالب، حدثنا أبو حذيفة، قالوا: حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن المهلَّب بن أبي صُفْرة، قال: أخبرني مَن سمع النبي ﷺ يقول: "إن بُيِّتُّم فليكن شِعارُكم: حم لا يُنصَرون" (1). وهكذا رواه زهير بن معاوية عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2512 - تابعه زهير بن معاوية على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
مہلب بن ابی صفرہ سے روایت ہے کہ انہیں اس شخص نے بتایا جس نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر تم پر رات کے وقت دشمن شب خون مارے تو تمہارا نعرہ یہ ہونا چاہیے: «حم لَا يُنْصَرُونَ» (حم، دشمنوں کی مدد نہیں کی جائے گی)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو نُعيم: هو الفضل بن دُكَين، وأبو حذيفة هو موسى بن مسعود النَّهْدي، وسفيان: هو الثَّوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وهذا الصحابي المبهم بيَّنه شريك النخعي في روايته الآتية برقم (2545)، وهو البراء بن عازب، على أنَّ إبهام الصحابي لا يضر أصلًا.
درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود مبہم صحابی کی وضاحت شریک کی روایت (2545) سے ہوتی ہے کہ وہ حضرت براء بن عازب ہیں۔ صحابی کا مبہم ہونا حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
وأخرجه أبو داود (2597) عن محمد بن كثير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2597) نے محمد بن کثیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1682) من طريق وكيع بن الجراح، عن سفيان الثَّوري، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1682) نے وکیع عن سفیان ثوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: بُيِّتُّم، أي: قصدكم العدو ليلًا من غير علم لكم، فأُخذتم بغتةً.
نوٹ / توضیح: "بیّتّم" کا مطلب ہے کہ دشمن رات کے وقت تم پر اچانک حملہ کر دے جب تمہیں خبر نہ ہو۔
درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود مبہم صحابی کی وضاحت شریک کی روایت (2545) سے ہوتی ہے کہ وہ حضرت براء بن عازب ہیں۔ صحابی کا مبہم ہونا حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
وأخرجه أبو داود (2597) عن محمد بن كثير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2597) نے محمد بن کثیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1682) من طريق وكيع بن الجراح، عن سفيان الثَّوري، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1682) نے وکیع عن سفیان ثوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: بُيِّتُّم، أي: قصدكم العدو ليلًا من غير علم لكم، فأُخذتم بغتةً.
نوٹ / توضیح: "بیّتّم" کا مطلب ہے کہ دشمن رات کے وقت تم پر اچانک حملہ کر دے جب تمہیں خبر نہ ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2543 سے ماخوذ ہے۔