حدیث نمبر: 1428
حدثنا أبو الفضل محمد بن أحمد الحاكم الوزير إملاءً، حدثنا حماد بن أحمد القاضي ومحمد بن حَمْدَوَيهِ السِّنْجي، قالا: حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا شَرِيك وعليُّ بن مُسْهِر، قالا: حدثنا أبو إسحاق الهَجَري، عن عبد الله بن أبي أَوفى، قال: كان رسول الله ﷺ يَنْهَى عن المَرَاثي (1). إبراهيم بن مسلم الهَجَري ليس بالمتروك، إلّا أنَّ الشيخين لم يحتجَّا به. وهذا الحديث شاهدٌ لما تقدَّمَه، وهو غريبٌ صحيح، فإن مسلمًا قد احتجَّ بشَرِيك بن عبد الله.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مرثیہ خوانی (مردے کی یاد میں بین و پکار والے اشعار) سے منع فرمایا کرتے تھے۔
ابراہیم بن مسلم ہجری متروک راوی نہیں ہیں، اگرچہ شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا۔ یہ حدیث سابقہ روایات کے لیے شاہد ہے، اور یہ غریب صحیح ہے کیونکہ امام مسلم نے شریک بن عبداللہ سے احتجاج کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1428
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أبي إسحاق إبراهيم بن مسلم الهجري.» [ترقيم الرساله 1428] [ترقيم الشركة 1416]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي إسحاق إبراهيم بن مسلم الهجري.
درجۂ حدیث: (1) ابواسحاق ابراہیم بن مسلم الہجری کے ضعف کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (1592) من طريق سفيان بن عيينة، عن إبراهيم الهجري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (1592) نے سفیان بن عیینہ کی سند سے ابراہیم الہجری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1346).
فنی نکتہ: نمبر (1346) ملاحظہ فرمائیں۔
المراثي: النَّدب والنياحة على الميت.
(توضیح): "المراثی"؛ میت پر بین کرنا اور نوحہ خوانی کرنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1428 سے ماخوذ ہے۔