حدیث نمبر: 1427
حدَّثَناه أبو إسحاق المزكِّي إملاءً، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا عُقْبة بن سِنَان البَصريُّ، حدثنا عثمان بن عثمان الغَطَفاني، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، قال: قال أبو هريرة: إذا أنا مِتُّ فلا تَنُوحوا عليَّ، فإنَّ رسول الله ﷺ لم يُنَحْ عليه (2). هذه الزيادة عن أبي هريرة غريبةٌ جدًّا، إلّا أن عثمان الغَطَفانيَّ ليس من شرط كتابنا هذا (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب میں مر جاؤں تو مجھ پر بین نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ پر بھی بین نہیں کیا گیا تھا۔“
سیدنا ابوہریرہ سے مروی یہ اضافہ نہایت غریب ہے، اور عثمان غطفانی ہماری اس کتاب کی شرائط پر پورا نہیں اترتے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1427
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل عثمان الغطفاني ومحمد بن عمرو: وهو ابن علقمة. أبو إسحاق المزكي: هو إبراهيم بن محمد بن يحيى، ومحمد بن إسحاق: هو ابن خُزيمة.» [ترقيم الرساله 1427] [ترقيم الشركة 1415]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده حسن من أجل عثمان الغطفاني ومحمد بن عمرو: وهو ابن علقمة. أبو إسحاق المزكي: هو إبراهيم بن محمد بن يحيى، ومحمد بن إسحاق: هو ابن خُزيمة.
درجۂ حدیث: (2) عثمان الغطفانی اور محمد بن عمرو کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ابواسحاق المزکی سے مراد ابراہیم بن محمد اور محمد بن اسحاق سے مراد ابن خزیمہ ہیں۔
وأخرجه بأطول مما هنا ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 67/ 382 من طريق يحيى بن محمد بن صاعد، عن عقبة بن سنان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (382/67) میں عقبی بن سنان کی سند سے تفصیلاً روایت کیا ہے۔
(3) العجب من أبي عبد الله الحاكم ﵀ في قوله هذا، فإنه قد جعل من شرط كتابه هذا من هو دون عثمان الغطفاني رتبةً وضبطًا.
فنی نکتہ: (3) امام حاکم رحمہ اللہ کے اس قول پر تعجب ہے کہ عثمان الغطفانی ان کی شرط پر نہیں، حالانکہ انہوں نے اس سے بھی کم رتبہ راویوں کو اپنی کتاب میں جگہ دی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1427 سے ماخوذ ہے۔