المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
مَثَلُ الْإِنْسَانِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ وَعَمَلِهِ باب: انسان، اس کے اہل، اس کے مال اور اس کے عمل کی مثال۔
أخبرني أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو سَلَمة التَّبوذَكي موسى بنُ إسماعيل، حدثنا حمّاد ابن سَلَمة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن النُّعمان بن بَشِير قال: قال رسول الله ﷺ: "مَثَلُ الرَّجُل ومَثَلُ الموت كمَثَل رجلٍ له ثلاثةُ خِلّان، فقال أحدُهم: هذا مالي فخُذْ منه ما شئتَ، وقال الآخر: أنا معَكَ حياتَك فإذا مِتَّ تركتُكَ، وقال الآخر: أنا معَكَ أدخُلُ وأخرُجُ معك إن مِتَّ وإن حَيِيتَ، فأما الذي قال: خُذْ منه ما شئتَ ودَعْ ما شئتَ، فإنه مالُه، وأما الآخَر عَشِيرتُه، وأما الآخَر فهو عملُه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان اور موت کی مثال اس شخص جیسی ہے جس کے تین دوست ہوں؛ ایک نے کہا: یہ میرا مال ہے اس میں سے جو چاہو لے لو۔ دوسرے نے کہا: میں تمہاری زندگی میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مر جاؤ گے تو تمہیں چھوڑ دوں گا۔ تیسرے نے کہا: میں تمہارے ساتھ ہوں، تمہارے ساتھ ہی (قبر میں) داخل ہوں گا اور نکلوں گا چاہے تم مرو یا جیو۔ پس جس نے کہا کہ جو چاہو لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو، وہ اس کا مال ہے۔ دوسرا اس کے رشتہ دار ہیں اور تیسرا اس کا عمل ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) سماک بن حرب کی وجہ سے سند حسن اور حدیث صحیح لغیرہ ہے۔ ابوسلمہ التبوذکی نے اسے موقوف روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (253).
فنی نکتہ: نمبر (253) ملاحظہ فرمائیں۔