حدیث نمبر: 1291
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر الدَّارَبردي بمَرُو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا سعيد بن منصور وعليُّ بن حُجْر، قالا: حدثنا هُشَيم، أخبرنا يونس بن عُبيد. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل، عن يونس، عن الحسن، عن عُتَيّ، عن أُبيّ بن كعب، عن النبي ﷺ قال: "لمَّا حُضِر آدمُ ﵇ قال لِبنيه: انطلِقُوا فاجنُوا لي من ثمار الجنة" قال: "فخَرَج بنوهُ فاستَقبلَتهُم الملائكة، فقالوا: أين تُريدُون يا بني آدم؟ قالوا: بَعَثَنا أبونا لنَجْنيَ له من ثمار الجنة. قالوا: ارجِعوا فقد كُفيتُم" قال: "فرَجَعوا معهم حتى دَخَلُوا على آدم، فلمَّا رأتهم حوَّاءُ ذُعِرَتْ وجَعَلتْ تدنو إلى آدمَ وتَلصَقُ به، فقال لها آدم: إليكِ عنِّي، إليكِ عنِّي، فمن قِبَلِكِ أُتيتُ، خَلِّ بيني وبين ملائكةِ ربي" قال: "فقَبَضُوا رُوحَه، ثم غسَّلُوه وحنَّطُوه وكفَّنُوه. قال: ثم صلَّوا عليه، ثم حَفَروا له، ثم دَفَنوه، ثم قالوا: يا بني آدم هذه سُنَّتُكم في موتاكم، فكذاكُم فافعَلوا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو من النوع الذي لا يوجد للتابعي إلّا الراوي الواحد، فإن عُتَي بن ضَمْرة السعدي ليس له راو غيرُ الحسن (2)، وعندي أنَّ الشيخين علَّلاه بعلةٍ أخرى، وهو أنه رُوي عن الحسن عن أُبيِّ دون ذكر عُتَي:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! جاؤ اور میرے لیے جنت کے پھل توڑ کر لاؤ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس ان کے بیٹے نکلے تو راستے میں انہیں فرشتے ملے، فرشتوں نے پوچھا: اے بنی آدم! تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہمارے والد نے ہمیں بھیجا ہے تاکہ ہم ان کے لیے جنت کے کچھ پھل چن لائیں۔ فرشتوں نے کہا: واپس لوٹ جاؤ، تمہارا کام کر دیا گیا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چنانچہ وہ ان کے ساتھ واپس آئے یہاں تک کہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس داخل ہوئے، جب سیدہ حوا علیہا السلام نے انہیں دیکھا تو وہ گھبرا گئیں اور آدم علیہ السلام کے قریب ہو کر ان سے چمٹنے لگیں، اس پر آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا: مجھ سے دور ہو جاؤ، مجھ سے ہٹ جاؤ، مجھے تمہاری ہی وجہ سے (آزمائش میں) ڈالا گیا تھا، میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چنانچہ فرشتوں نے ان کی روح قبض کر لی، پھر انہیں غسل دیا، خوشبو لگائی اور کفن پہنایا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر فرشتوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، ان کے لیے قبر کھودی اور انہیں دفن کر دیا، پھر فرشتوں نے کہا: اے بنی آدم! تمہارے مردوں کے بارے میں یہی تمہارا طریقہ (سنت) ہے، پس تم بھی اسی طرح کیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اس قسم کی حدیث ہے جس میں تابعی سے روایت کرنے والا صرف ایک ہی راوی پایا جاتا ہے، کیونکہ عتی بن ضمرہ سعدی سے حسن بصری کے علاوہ کوئی اور راوی نہیں ہے، اور میرے نزدیک شیخین نے اس میں ایک اور علت بیان کی ہے کہ یہ روایت حسن بصری سے عتی کے ذکر کے بغیر بھی مروی ہے:

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الجنائز / حدیث: 1291
درجۂ حدیث محدثین: حديث غريب
تخریج حدیث «حديث غريب، رجاله لا بأس بهم، لكن قد اختلف في رفعه ووقفه، كما أشار إليه البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 79، وقد تفرد به عُتي، وعُتَي - وهو ابن ضمرة السعدي - وثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان والحافظ ابن حجر، وقال ابن المديني: حديثه يشبه حديث أهل الصدق وإن كان لا يُعرف.» [ترقيم الرساله 1291] [ترقيم الشركة 1279]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث غريب، رجاله لا بأس بهم، لكن قد اختلف في رفعه ووقفه، كما أشار إليه البخاري في "التاريخ الكبير" 1/ 79، وقد تفرد به عُتي، وعُتَي - وهو ابن ضمرة السعدي - وثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان والحافظ ابن حجر، وقال ابن المديني: حديثه يشبه حديث أهل الصدق وإن كان لا يُعرف.
درجۂ حدیث: (1) یہ غریب حدیث ہے، اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں لیکن اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں اختلاف ہے جیسا کہ امام بخاری نے "تاریخ کبیر" (79/1) میں اشارہ کیا ہے۔ عتی (ابن ضمرہ السعدی) ثقہ راوی ہیں۔
أبو الموجه هو محمد بن عمرو الفزاري وإسماعيل: هو ابن علية، والحسن: هو ابن أبي الحسن البصري.
فنی نکتہ: ابوموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، اسماعیل سے مراد ابن علیہ اور حسن سے مراد حسن بصری ہیں۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" 35/ (21240) من طريق حميد بن أبي حميد الطويل، عن الحسن البصري، عن عتي، عن أبي بن كعب موقوفًا عليه. وانظر تمام تخريجه فيه.
درجۂ حدیث: اسے عبداللہ بن احمد نے مسند احمد کے اضافات (21240/35) میں موقوفاً (صحابی کا قول) روایت کیا ہے۔
وسيأتي بعده دون ذكر عتي، ومختصرًا برقم (3075) و (4042) و (4048).
تکرار: یہ آگے عتی کے ذکر کے بغیر اور مختصراً نمبر (3075، 4042، 4048) پر آئے گی۔
(2) بل روى عنه أيضًا ابنه عبد الله بن عتيي بن ضمرة، فيما نقله إبراهيم بن عبد الله بن الجنيد عن يحيى بن معين.
فنی نکتہ: (2) بلکہ ان سے ان کے بیٹے عبداللہ بن عتی نے بھی روایت کی ہے جیسا کہ یحییٰ بن معین سے منقول ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1291 سے ماخوذ ہے۔