المستدرك على الصحيحين
كتاب الجنائز— نماز جنازہ کا بیان
قِصَّةُ وَفَاةِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ باب: سیدنا آدم علیہ السلام کی وفات کا واقعہ۔
أخبرَناه أبو بكر بن عبد الله أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا هارون بن سعيد الأَيْلي، حدثنا ابن وَهْب، أخبرني عمر بن مالك المَعافِري، عن يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، عن الحسن، عن أُبيٍّ بن كعب، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "كان آدمُ رجلًا طوالًا"، فذكر حديثًا طويلًا، وقال في آخره: إنه قال: "خَلُّوا بيني وبين رُسُل رَبي، فإنكِ أدخلتِ عليَّ هذا، فقَبَضُوا نَفْسَه، وغسَّلوه بالماء والسِّدر ثلاثًا، وكفَّنوه وصلَّوا عليه ودفنوه، ثم قالوا: هذه سُنَّة بَنِيكَ من بعدِك" (1). هذا لا يعلِّل حديث يونس بن عُبيد، فإنه أعرف بحديث الحسن من أهل المدينة ومصر، والله أعلم.
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدم علیہ السلام ایک طویل القامت شخص تھے“، پھر راوی نے طویل حدیث ذکر کی اور اس کے آخر میں بیان کیا کہ آدم علیہ السلام نے فرمایا: ”تم میرے اور میرے رب کے فرستادوں (فرشتوں) کے درمیان سے ہٹ جاؤ کیونکہ تمہاری ہی وجہ سے مجھ پر یہ (آزمائش) آئی ہے، پھر فرشتوں نے ان کی روح قبض کر لی، انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے تین بار غسل دیا، کفن پہنایا، ان پر نماز پڑھی اور انہیں دفن کر دیا، پھر فرشتوں نے کہا: یہ تمہارے بعد تمہاری اولاد کا طریقہ (سنت) ہے۔“
یہ روایت یونس بن عبید کی حدیث پر اثر انداز (علت) نہیں ہوتی کیونکہ وہ اہل مدینہ اور اہل مصر کے مقابلے میں حسن بصری کی احادیث کو زیادہ بہتر جاننے والے ہیں، واللہ اعلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کے راویوں میں پچھلی روایت کی طرح کوئی حرج نہیں، لیکن حسن بصری کا حضرت ابی بن کعب سے سماع نہیں ہے، ان کے درمیان عتی بن ضمرہ کا واسطہ ہے جیسا کہ پچھلی سند میں گزرا۔