حدیث نمبر: 125
حدَّثناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، حدثنا موسى بن محمد بن حَيَّان، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن هُشَيم، عن إسماعيل، عن قيس، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال: "إذا كان أجَلُ أحدِكم بأرض، جُعِلَت له إليها حاجَةٌ فيُوفِّيه الله بها، فتقول الأرض يوم القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعتَنى" (2). فقد أسند هذا الحديث ثلاثةٌ من الثِّقات عن إسماعيل، ووَقَفَه (3) عنه سفيان بن عيينة، فنحن على ما شَرَطْنا في إخراج الزيادة من الثِّقة في الوصل والسَّنَد. ثم لهذا الحديث شواهد على شرط الشيخين، فمنها:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت کسی سرزمین پر آ جائے، تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دی جاتی ہے اور اللہ اسے اسی کے ذریعے وہاں پورا کر دیتا ہے، پھر قیامت کے دن زمین عرض کرتی ہے: اے میرے رب! یہ تیری وہ امانت ہے جو تو نے میرے حوالے کی تھی۔“
اس حدیث کو تین ثقہ راویوں نے اسماعیل سے مسنداً روایت کیا ہے، جبکہ سفیان بن عیینہ نے اسے موقوفاً بیان کیا ہے، اور ہماری شرط ثقہ راوی کی سند اور وصل میں زیادتی کو قبول کرنا ہے۔ اس حدیث کے شیخین کی شرط پر شواہد بھی موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإيمان / حدیث: 125
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح ك
تخریج حدیث «حديث صحيح كسابقيه» [ترقيم الرساله 125] [ترقيم الشركة 124]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح كسابقيه.
درجۂ حدیث: سابقہ روایات کی طرح یہ بھی صحیح ہے۔
وأخرجه الطبراني (10403) عن محمد بن عبد الله الحضرمي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے (10403) میں محمد بن عبداللہ حضرمی کی سند سے روایت کیا ہے۔
(3) في النسخ الخطية والمطبوع: ووافقه. والصواب ما أثبتنا.
فنی نکتہ / علّت: خطی اور مطبوعہ نسخوں میں یہاں "ووافقه" درج ہے، جبکہ درست لفظ وہ ہے جو ہم نے متن میں ثابت کیا ہے۔
فقد أخرج رواية سفيان هذه الموقوفة عبدُ الرزاق في "تفسيره" 1/ 215، وسعيد بن منصور

في قسم التفسير من "سننه" (894) من طريقه عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس، عن ابن مسعود قوله.

حوالہ / مصدر: سفیان ثوری کی اس موقوف روایت کو عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" (1/215) میں اور سعید بن منصور نے اپنی "سنن" (894) میں اسماعیل بن ابی خالد عن قیس عن ابن مسعود کے طریق سے ان کا قول (موقوف) روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 125 سے ماخوذ ہے۔