المستدرك على الصحيحين
كتاب الإيمان— ایمان کا بیان
إِذَا كَانَ أَجَلُ أَحَدٍ بِأَرْضٍ أَثْبَتَ اللَّهُ لَهُ إِلَيْهَا حَاجَةً باب: جب کسی کی موت کا وقت کسی سرزمین میں مقرر ہو جاتا ہے تو اللہ اس کے دل میں وہاں جانے کی کوئی ضرورت پیدا فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 124
حدثني أبو الحسن علي بن العباس الإسكندراني العَدل بمكة، حدثنا أبو جعفر أحمد بن محمد بن عبد الواحد الحِمْصي، حدثنا أبو الحسن كَثير بن عُبيد ابن نُمير المَذْحِجي، حدثنا محمد بن خالد الوَهبي، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال: "إذا كانت مَنِيَّةُ أحدِكم بأرضٍ، أُتيحَ له الحاجةُ فيقصدُ إليها، فيكون أقصى أثره منه فيُقبَضُ فيها، فتقول الأرضُ يومَ القيامة: ربِّ هذا ما استَودَعتني" (1). وقد أسنده هُشَيم عن إسماعيل بن أبي خالد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی موت کسی سرزمین پر مقدر ہو، تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت مہیا کر دی جاتی ہے اور وہ اس کا قصد کرتا ہے، پھر جب وہ وہاں اپنے آخری نشانِ قدم تک پہنچتا ہے تو وہیں اس کی روح قبض کر لی جاتی ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین عرض کرتی ہے: اے میرے رب! یہ وہ امانت ہے جو تو نے میرے پاس رکھی تھی۔“
اسے ہشیم نے اسماعیل بن ابی خالد سے مسنداً روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح كسابقه، وسيأتي مكررًا بإسناده ومتنه برقم (1374)، وانظر الحديثين بعده هناك.
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی صحیح ہے، اور یہی روایت اپنی سند و متن کے ساتھ آگے نمبر (1374) پر دوبارہ آئے گی۔
درجۂ حدیث: پچھلی روایت کی طرح یہ بھی صحیح ہے، اور یہی روایت اپنی سند و متن کے ساتھ آگے نمبر (1374) پر دوبارہ آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 124 سے ماخوذ ہے۔