حدیث نمبر: 1006
حدثنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلَابة، حدثنا بِشْر بن عمر الزَّهْراني. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس؛ قالا: حدثنا شُعْبة، عن سعد بن إبراهيم، عن أبي عُبَيدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ: أنه كان في الركعتين الأُولَييَنِ كأنه على الرَّضْف. قال: قلنا حتى يقومَ؟ قال: حتى يقومَ (1). تابعه مِسعَرٌ عن سعد بن إبراهيم:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (نماز کی) پہلی دو رکعتوں میں (تشہد کے لیے) اس طرح (تیزی سے) بیٹھتے تھے گویا کہ آپ ﷺ تپتے ہوئے پتھروں پر بیٹھے ہوں۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے پوچھا، کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے؟ انہوں نے کہا: ہاں، یہاں تک کہ آپ ﷺ کھڑے ہو جاتے۔
مسعر نے بھی اسے سعد بن ابراہیم سے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 1006
تخریج حدیث «إسناده رجاله عن آخرهم لا بأس بهم غير عبد الرحمن بن الحسن الأسدي شيخ المصنف في أحد طريقيه فإنه ضعيف، وهو متابع، وأبو عبيدة -وهو ابن عبد الله بن مسعود- لم يصحَّ له سماعٌ من أبيه، فهو منقطع- أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي-» [ترقيم الرساله 1006] [ترقيم الشركة 998]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده رجاله عن آخرهم لا بأس بهم غير عبد الرحمن بن الحسن الأسدي شيخ المصنف في أحد طريقيه فإنه ضعيف، وهو متابع، وأبو عبيدة -وهو ابن عبد الله بن مسعود- لم يصحَّ له سماعٌ من أبيه، فهو منقطع. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي.
درجۂ حدیث: (1) اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں سوائے عبدالرحمن الاسدی کے جو ضعیف ہیں، مگر ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ سند "منقطع" ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3656) و 7/ (3895) و (4155)، وأبو داود (995)، والترمذي (366) من طرق عن شعبة، بهذا الإسناد. قال الترمذي: هذا حديث حسن، إلّا أنَّ أبا عبيدة لم يسمع من أبيه.
حوالہ / مصدر: اسے احمد، ابوداؤد (995) اور ترمذی (366) نے شعبہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے بھی اس کے انقطاع کی طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 7/ (4388 - 4390)، والنسائي (766) من طريق إبراهيم بن سعد بن إبراهيم، عن أبيه، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (766) نے ابراہیم بن سعد کی سند سے روایت کیا ہے۔
الرَّضْف: الحجارة المُحْماة بالشمس أو بالنار.
(توضیح): "الرَّضْف" سے مراد وہ پتھر ہیں جو سورج یا آگ کی تپش سے گرم ہو چکے ہوں۔
قال الترمذي: والعمل على هذا عند أهل العلم: يختارون أن لا يطيل الرجلُ القعودَ في الركعتين الأُوليين، ولا يزيد على التشهُّد شيئًا في الركعتين الأُوليين، وقالوا: إن زاد على التشهد فعليه سجدتا السهو، هكذا رُوِيَ عن الشعبي وغيره.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کے نزدیک پہلے دو رکعتوں کے تشہد کو لمبا نہیں کرنا چاہیے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کرنا چاہیے (یعنی صرف التحیات پڑھی جائے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1006 سے ماخوذ ہے۔