المستدرك على الصحيحين
كتاب الإمامة وصلاة الجماعة— امامت اور باجماعت نماز کی کتاب
التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز کے تشہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1000
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا عبد الرحمن بن عمرو الدِّمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا عبد الله بن سعيد الكِنْدي، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه، عن عبد الله قال: من السُّنَّة أن يُخفِيَ التشهُّدَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 986 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ تشہد کو آہستہ (خفیہ) پڑھا جائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، محمد بن إسحاق -وإن كان مدلسًا ورواه بالعنعنة- قد تابعه الحسن بن عبيد الله النخعي عند المصنف فيما سلف برقم (934).
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے؛ محمد بن اسحاق اگرچہ مدلس ہیں اور "عن" سے روایت کر رہے ہیں، مگر حسن بن عبیداللہ النخعی نے ان کی متابعت کر رکھی ہے (حدیث 934)۔
وأخرجه أبو داود (986)، والترمذي (291) عن عبد الله بن سعيد الكندي -وهو أبو سعيد الأشجّ- بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب، والعمل عليه عند أهل العلم.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (986) اور ترمذی (291) نے ابوسعید الاشج کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا اور فرمایا کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
درجۂ حدیث: (1) حدیث صحیح ہے؛ محمد بن اسحاق اگرچہ مدلس ہیں اور "عن" سے روایت کر رہے ہیں، مگر حسن بن عبیداللہ النخعی نے ان کی متابعت کر رکھی ہے (حدیث 934)۔
وأخرجه أبو داود (986)، والترمذي (291) عن عبد الله بن سعيد الكندي -وهو أبو سعيد الأشجّ- بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن غريب، والعمل عليه عند أهل العلم.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (986) اور ترمذی (291) نے ابوسعید الاشج کی سند سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا اور فرمایا کہ اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1000 سے ماخوذ ہے۔