حدیث نمبر: 999
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزَّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد ابن شاكر، حدثنا أبو مَعمَر عبد الله بن عمرو (2)، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا حسين المعلِّم، عن عبد الله بن بُرَيدة، عن حَنظَلة بن علي، أنَّ مِحجَنَ بن الأدرَع حدَّثه قال: دَخَلَ رسولُ الله ﷺ المسجدَ فإذا هو برجل قد صلَّى صلاتَه وهو يتشهَّدُ ويقول: اللهمَّ إني أسألُك بالله (3) الأحدِ الصَّمد، الذي لم يَلِدْ ولم يُولَدْ، ولم يكن له كُفُوًا أَحد، أن تَغفِرَ ذُنوبي، إنك أنت الغَفُورُ الرحيم، فقال: "قد غُفِرَ له، قد غُفِرَ له، قد غُفِرَ له" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 985 - على شرطهما
حافظ طلحہ بابر

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو وہاں ایک شخص نماز پڑھنے کے بعد تشہد میں یہ دعا مانگ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللَّهِ الْأَحَدِ الصَّمَدِ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» "اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اکیلے اور بے نیاز ہونے کے واسطے سے سوال کرتا ہوں، وہ ذات جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور کوئی اس کا ہمسر نہیں، کہ تو میرے گناہ بخش دے، بے شک تو ہی بہت بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔" آپ ﷺ نے یہ سن کر تین بار فرمایا: "اس کی بخشش کر دی گئی ہے، اس کی بخشش کر دی گئی ہے، اس کی بخشش کر دی گئی ہے۔"
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الإمامة وصلاة الجماعة / حدیث: 999
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، ، وأخرجه أبو داود (985) عن أبي معمر عبد الله بن عمرو، بهذا الإسناد» [ترقيم الرساله 999] [ترقيم الشركة 991] [ترقيم العلميه 985]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف "عمرو" في النسخ الخطية إلى: عمر، بإسقاط الواو، وأبو معمر هذا: هو المُقعَد البصري راوية عبد الوارث بن سعيد.
فنی نکتہ: (2) خطی نسخوں میں "عمر" ہو گیا تھا، درست "عمرو" ہے۔ ابوعمر سے مراد البصری المقعد ہیں جو عبدالوارث کے راوی ہیں۔
(3) هكذا تُقرَأ في أصولنا الخطية، وفي بعض مصادر الحديث: يا اللهُ.
فنی نکتہ: (3) ہمارے اصل نسخوں میں ایسے ہی ہے، بعض میں "یا اللہ" کے الفاظ ہیں۔
(4) إسناده صحيح.

وأخرجه أبو داود (985) عن أبي معمر عبد الله بن عمرو، بهذا الإسناد.

درجۂ حدیث: (4) اس کی سند صحیح ہے۔ اسے ابوداؤد (985) نے بھی اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 31/ (18974)، والنسائي (1225) و (7618) من طريق عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعيد، عن أبيه، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (18974/31) اور نسائی نے عبدالصمد عن ابیہ (عبدالوارث) کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي بنحوه من حديث عبد الله بن بريدة عن أبيه برقم (1879).
تکرار: اس طرح کی حدیث حضرت عبداللہ بن بریدہ سے آگے نمبر (1879) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔