٣٥٩٢٤ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد اللَّه بن الزبير عن أبيه عن جده قال: أخبرني أبي الذي (أرضعني) (١) من بني (قرة) (٢) قال: كأني أنظر إلى جعفر يوم موتة نزل عن فرس له (شقراء) (٣) (فعرقبها) (٤)، ثم مضى فقاتل حتى قتل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عباد بن عبد اللہ بن زیبر رضی اللہ عنہاپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے بتایا جنہوں نے مجھے بنو مرہ میں دودھ پلایا فرمایا گویا کہ میں جنگ موتہ کے دن حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہا ہوں اپنے گھوڑے سے اترے جو سرخی مائل تھا، پھر اس کے پاؤں پر ضرب کا نشان لگایا اور جنگ میں شریک ہوگئے اور لڑتے رہے یہاں تک کہ آپ شہید ہوگئے۔
٣٥٩٢٥ - حدثنا يحيى بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس أو غيره قال: بعث أبو بكر إلى الشام فقال: لا تعقروا دابة حسرتموها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت قیس رضی اللہ عنہ کو ملک شام کی طرف بھیجا اور فرمایا : گھوڑے کے پاؤں پر ضرب کا نشان مت لگاؤ، تم اس کو تھکا دیتے ہو۔
٣٥٩٢٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا معقل بن عبيد اللَّه العبسي عن عمر بن عبد العزيز قال: الحسير (١) لا تعقر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ گھوڑے جو تھک جائیں ان کے پاؤں پر ضرب کا نشان نہیں لگایا جائے گا۔
٣٥٩٢٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا الهذلي عن الزهري قال: كانت السرايا إذا بعثت قيل لها: لا تعقروا حسيرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سرایا بھیجے جاتے تو ان کو کہا جاتا کہ تھک جانے والے جانور کے پاؤں پر ضرب کا نشان مت لگانا۔
٣٥٩٢٨ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن عمرو بن قيس عن مغيرة (بن) (١) زياد عن مكحول عن عبادة بن نسي قال: قال أبو بكر: لا تعقروا دابة وإن حسرت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گھوڑے کے پاؤں پر ضرب کا نشان مت لگاؤ اگرچہ وہ تھک جائے۔