٣٥٧٢٧ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه بن عمر (عن نافع عن ابن عمر) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک خیر باندھ دی گئی، (رکھ دی گئی ہے)
٣٥٧٢٨ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس ومحمد بن فضيل عن حصين عن الشعبي عن عروة البارقي رفعه قال: "الخير معقود في نواصي الخيل إلى يوم القيامة ⦗٤٧٩⦘ الأجر والمغنم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ البارقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کی پیشانی پر قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے اجر اور غنیمت بھی اور حضرت ابن ادریس اس حدیث میں اضافہ فرماتے ہیں کہ : اور اونٹ میں اس کے مالک کیلئے عزت ہے، اور بکری بھی باعث برکت ہے۔
٣٥٧٣٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن ابن أبي السفر (عن الشعبي) (١) عن عروة البارقي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ (يقول) (٢): "الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة الأجر والمغنم" (٣)] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ البارقی سے اسی طرح مروی ہے۔
٣٥٧٣١ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن يونس عن عمرو بن سعيد عن أبي زرعة (بن) (١) عمرو بن جرير عن جرير قال: رأيت النبي ﷺ يلوي ناصية فرسه (على أصبعه) (٢) ويقول: "الخير (معقود) (٣) في نواصي الخيل إلى يوم القيامة: الأجر والمغنم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی مبارک سے گھوڑے کی پیشانی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں اجر اور غنیمت کی صورت میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔
٣٥٧٣٢ - حدثنا شبابة عن عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔
٣٥٧٣٣ - حدثنا أبو أسامة عن شعبة عن أبي التياح عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "البركة في نواصي الخيل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : برکت گھوڑے کی پیشانی میں ہے۔
٣٥٧٣٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا ابن عون عن سعيد البزار عن مكحول قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة، وأهلها معانون عليها" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔ اور ان کے مالک ان پر نگہبان و محافظ ہیں۔
٣٥٧٣٥ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن شبيب بن غرقدة عن عروة البارقي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الخير معقود بنواصي الخيل إلى يوم القيامة" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔
٣٥٧٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي قال: من ارتبط فرسا في سبيل اللَّه كان روثه وبوله وعلفه وكذا وكذا في ميزانه يوم القيامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا جو شخص جہاد کیلئے گھوڑا پالے تو اس کا پیشاب وگوبر اور اس کا چارہ بھی قیامت کے دن نامہ اعمال میں تولا جائے گا۔
٣٥٧٣٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد الحميد بن بهرام عن شهر بن حوشب عن أسماء بنت يزيد قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "من ارتبط فرسًا في سبيل اللَّه فأنفق عليه احتسابًا كان شبعه وجوعه، وظمؤه وريه، وروثه وبوله في ميزانه يوم القيامة، ومن ارتبط فرسا رياء وسمعة كان ذلك خسرانا في ميزانه يوم (القيامة) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جہاد کیلئے گھوڑا پالے پھر ثواب کی نیت سے اس پر خرچ کرے تو اس کا پیٹ بھرنا، اس کا بھوکا پیاسا رہنا، اس کا گوبر اور پیشاب قیامت کے دن نامہ اعمال میں تولا جائے گا، (نیکیوں کے نامہ اعمال میں) اور جو شخص ریاء اور نمائش کیلئے گھوڑا پالے تو قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں ناکامی کا سبب ہوگا۔
٣٥٧٣٨ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الركين عن أبي عمرو الشيباني عن رجل من الأنصار عن النبي ﷺ قال "الخيل ثلاثة: فرس يرتبطه الرجل في سبيل اللَّه (فثمنه) (١) أجر، وركوبه وعاريته أجر، وعلفه أجر، وفرس (يغالق) (٢) عليه الرجل (ويراهن) (٣) عليه فثمنه وزر، وعلفه وزر، وركوبه وزر، وفرس للبطنة فعسى أن يكون سدادا من الفقر إن شاء اللَّه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمر الشیبانی رضی اللہ عنہایک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑا تین قسم کا ہے، ایک وہ گھوڑا جس کو جہاد کیلئے پالا ہے اس کی قیمت اجر ہے، اس پر سواری کرنا ثواب ہے، اس کا کرایہ ثواب ہے، اس کا چارہ ثواب ہے، دوسرا وہ گھوڑا جو بازی لگانے کیلئے ہے اس کی قیمت بھی بوجھ ہے، اس کا چارہ بھی بوجھ ہے اور اس پر سواری بھی بوجھ ہے، اور تیسرا وہ گھوڑا جو شکم سیری کیلئے ہے، پس قریب ہے کہ وہ اس کو فقر سے محفوظ رکھے گا، اگر اللہ نے چاہا تو۔
٣٥٧٣٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا المسعودي عن مزاحم بن زفر التيمي عن رجل عن خباب قال: الخيل ثلاثة: فرس للَّه، وفرس لك، وفرس للشيطان، فأما الفرس الذي للَّه فالفرس الذي يغزى عليه، وأما الفرس الذي لك فالفرس الذي يستبطنه الرجل، وأما الفرس الذي للشيطان فما (قومر) (١) عليه وروهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ گھوڑا تین طرح کا ہے، ایک وہ جو اللہ کیلئے ہے، دوسرا وہ جو آپ کیلئے (مالک) ہے اور تیسرا وہ جو شیطان کیلئے ہے۔ بہر حال اللہ کیلیے وہ گھوڑا ہے جس پر سوار ہو کر جہاد کیا جائے، اور وہ گھوڑا جو آپ کے لیے ہے وہ گھوڑا ہے جسے آدمی اپنا پیٹ بھرنے کیلئے پالے، اور شیطان کیلئے وہ گھوڑا ہے جس پر جوا اور شرط لگائی جائے۔
٣٥٧٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن شعبة (١) بن دينار عن عكرمة ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾، قال: الحصون قال: ﴿وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ﴾ [الأنفال: ٦٠]، قال: (الإناث) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { وَأَعِدُّوا لَہُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں اس سے مراد قلعوں کی تعمیر کرنا ہے، اور { مِنْ رِبَاطِ الْخَیْلِ } سے مراد مؤنث گھوڑے ہیں۔
٣٥٧٤١ - حدثنا خالد بن مخلد قال: ثنا سليمان بن بلال عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الخيل معقود في نواصيها الخير إلى يوم القيامة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک خیر رکھ دی گئی ہے۔