کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: مال غنیمت (بخشش) جنگ سے قبل ہو گا یا جنگ کے بعد؟
❮
❯
٣٥٥٠١ - حدثنا شريك عن جابر عن القاسم عن أبيه قال: قال (عبد اللَّه) (١): النفل ما لم يلتق الصفان (أو) (٢) الزحفان، (فإذا التقى الصفان أو الزحفان فالمغنم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ عطیہ اور بخشش اس وقت تک ہے جب تک کہ لشکر آمنے سامنے نہ آئے ہوں۔ اگر آمنے سامنے آجائیں تو پھر مال غنیمت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35501
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر الجعفي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35501، ترقيم محمد عوامة 33956)
٣٥٥٠٢ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو العميس عن القاسم بن عبد الرحمن عن مسروق قال: إذا التقى الزحفان (أو) (١) الصفان فلا (نفلَ) (٢)، إنما هي الغنيمة، إنما النفل قبل وبعد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے آجائیں تو پھر بخشش اور عطیہ نہیں ہے، وہ تو غنیمت ہے، بخشش اور عطیہ تو اسے پہلے یا اس کے بعد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35502
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35502، ترقيم محمد عوامة 33957)
٣٥٥٠٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن ثور عن سليمان بن موسى قال: قال عمر: (لا نفل في أول غنيمة، و) (١) لا نفل بعد الغنيمة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ غنیمت سے پہلے اور غنیمت کے بعد بخشش اور عطیہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35503
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35503، ترقيم محمد عوامة 33958)