٣٥٤٥٢ - حدثنا ابن علية عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن الرجل يكون في سرية تحمل بغير إذن أميره، فكتب أنه لا يغيره إذن أميره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو لکھ کر ان سے دریافت کیا کہ : کوئی شخص امیر کی اجازت کے بغیر سر یہ سے نکل جائے ؟ آپ نے جواب تحریر فرمایا : اس کو امیر کے حکم نے تبدیل نہیں کیا۔
٣٥٤٥٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان قال: إذا التقى الزحفان فليس للرجل أن يحمل بغير إذن إمامه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن حسان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب دو لشکر آمنے سامنے (پیش قدمی کریں) ہوجائیں تو کسی شخص کو اس بات کی اجازات نہیں ہے کہ وہ امیر کے اذن کے بغیر سوار ہوجائے (سوار ہو کر نکل جائے) ۔
٣٥٤٥٤ - حدثنا حفص بن غياث عن الأشعث عن الحسن قال: لا (يُسرى) (١) (في) (٢) سرية إلا بإذن أميرها ولهم ما نفلهم من شيء.