٣٥٠٩٢ - حدثنا محمد بن فضيل عن أبيه قال: كان عمر بن عبد العزيز لا يفرض إلا لمن قرأ القرآن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ عطیہ مقرر نہیں فرماتے تھے مگر قرآن پڑھنے والے شخص کے لیے۔ راوی کہتے ہیں : کہ میرے والد بھی ان لوگوں میں سے تھے جو قرآن پڑھتے تھے۔ تو آپ رحمہ اللہ نے ان کے لیے عطیہ مقرر فرمایا۔
٣٥٠٩٤ - حدثنا وكيع قال: (ثنا) (١) سفيان عن الشيباني عن (يسير) (٢) بن عمرو أن سعد بن مالك فرض لمن قرأ القرآن في ألفين ألفين، فبلغ ذلك عمر، فكتب إليه أن لا (يعطي) (٣) على القرآن أجرًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یسیر بن عمرو رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت سعد بن مالک رحمہ اللہ نے قرآن پڑھنے والوں کے لیے دو دو ہزار کا عطیہ مقرر فرمایا۔ یہ خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پہونچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف خط لکھا : کہ وہ قرآن پڑھنے پر اجرت مت عطا کریں۔