کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: گھوڑے اور جانوروں کو خصی کرنے کے بارے میں جن حضرات نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے
٣٤٧٦٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا عبد اللَّه بن نافع عن أبيه عن ابن عمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن خصاء الخيل والبهائم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے اور دوسرے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا۔ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ان میں مخلوق کی بڑھوتری ہے۔
٣٤٧٦٢ - حدثنا شريك عن إبراهيم بن مهاجر عن إبراهيم أن عمر كتب ينهى عن خصاء الخيل (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر گھوڑے کو خصی کرنے سے منع کیا۔
٣٤٧٦٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم بن مهاجر البجلي قال: كتب عمر أن لا يخصى فرس ولا يجرى (بين) (١) أكثر من مائتين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر البجلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خط لکھا : کہ گھوڑوں کو خصی مت کیا جائے اور ان کو دو سو سے زیادہ نہ دوڑایا جائے۔
٣٤٧٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا أسامة بن زيد عن يزيد بن أبي حبيب قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى أهل مصر ينهاهم عن خصاء الخيل وأن يجري الصبيان الخيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے خط لکھ کر مصر والوں کو منع کیا کہ وہ گھوڑے کو خصی نہ کریں۔ اور بچوں کو گھوڑوں پر نہ دوڑائیں۔
٣٤٧٦٥ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس قال: سمعت أنسا يقول: ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ [النساء: ١١٩]، قال: الخصاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اس آیت : { وَلآمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ } میں خصی کرنا مراد ہے۔
٣٤٧٦٦ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن إسماعيل عن أبي صالح قال: الخصاء.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو صالح رحمہ اللہ نے بھی یہی ارشاد فرمایا : کہ خصی کرنا مراد ہے۔
٣٤٧٦٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبو (مكين) (١) عن عكرمة أنه كره خصاء الدواب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مکین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ جانوروں کے خصی کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٣٤٧٦٨ - حدثنا حفص عن ليث عن عطاء وطاوس ومجاهد والحسن وشهر أنهم كرهوا الخصاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء ، حضرت طاؤس ، حضرت مجاہد رحمہ اللہ ، حسن اور حضرت شہر رحمہ اللہ یہ سب حضرات خصی کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٣٤٧٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن سالم عن ابن عمر أن عمر نهى عن الخصاء وقال: النماء مع الذكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جانوروں کو خصی کرنے سے منع فرمایا : اور ارشاد فرمایا : کہ نسل میں اضافہ تو آلۂ تناسل کے ساتھ ہوتا ہے۔
٣٤٧٧٠ - حدثنا أسباط بن محمد وابن فضيل عن مطرف عن رجل عن ابن عباس قال: خصاء البهائم مثلة ثم تلا: ﴿وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف رحمہ اللہ ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جانوروں کو خصی کرنا تو مثلہ ہے۔ اور پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَلآمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ }