کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ولاء کے فروخت کرنے اور اس کو ہبہ کرنے کا بیان، کون حضرات اس کو ناپسند کرتے ہیں
٣٣٧٦٥ - حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن بيع الولاء وعن هبته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔
٣٣٧٦٦ - حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قال (١) (علي) (٢): الولاء بمنزلة الحلف لا يباع ولا يوهب أقروه حيث جعله اللَّه تعالى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ولاء معاہدے کے حکم میں ہے اس کو بیچا جاسکتا ہے نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے، اس کو وہیں ٹھہراؤ جہاں اس کو اللہ نے رکھا ہے۔
٣٣٧٦٧ - حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: إنما الولاء كالنسب، أيبيع الرجل (نسبه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ ولاء نسب کی طرح ہے ، کیا کوئی اپنے نسب کو فروخت کرتا ہے ؟
٣٣٧٦٨ - حدثنا جرير وحفص وأبو خالد عن عبد الملك عن عطاء عن ابن عباس قال: الولاء لا يباع ولا يوهب (١).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ولاء کو بیچا جاسکتا ہے نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٦٩ - حدثنا محمد بن يزيد عن أيوب أبي العلاء عن قتادة عن عمر قال: الولاء كالرحم: لا يباع، ولا يوهب (١).
مولانا محمد اویس سرور
قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ ولاء رشتہ داری کی طرح ہے اس کو فروخت کیا جاسکتا ہے نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٧٠ - [حدثنا أبو خالد عن داود عن سعيد بن المسيب قال: الولاء كالنسب لا يباع ولا يوهب] (١).
مولانا محمد اویس سرور
سعید بن مسیب نے فرمایا کہ ولاء نسب کی طرح ہے نہ اسے بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٧١ - [حدثنا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال: الولاء نسب لا يباع ولا يوهب] (١).
مولانا محمد اویس سرور
سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے نہ اسے بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٧٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي مسكين عن إبراهيم قال: الولاء لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ولاء کو بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٧٣ - حدثنا عباد عن هشام عن الحسن وابن سيرين أنهما قالا: الولاء (شجنة) (١) كالنسب لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ایک رشتہ داری ہے اس کو فروخت کیا جاسکتا ہے نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٧٤ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: الولاء لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
عامر فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٣٣٧٧٥ - حدثنا ابن علية عن ليث عن طاوس قال: الولاء لا يباع ولا يوهب ولا يتصدق به.
مولانا محمد اویس سرور
طاؤس فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے ، نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو صدقہ کیا جاسکتا ہے۔