کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس بچے کا بیان جو مر جائے اور اس کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو ، کہ اس کی میراث ان دونوں میں سے کس کے لئے ہو گی
٣٣٥٩٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن أنه كان يقول: إذا مات الصبي وأحد أبويه مسلم، قال: يرثه المسلم منهما دون الكافر منهما.
مولانا محمد اویس سرور
یونس روایت کرتے ہیں کہ حسن فرمایا کرتے تھے کہ جب بچہ مرجائے اور اس کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو تو اس کا وارث مسلمان ہوگا نہ کہ کافر۔
٣٣٥٩٥ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم وحجاج عن عطاء مثل ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حجاج حضرت عطاء سے یہی روایت نقل کرتے ہیں۔
٣٣٥٩٦ - حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن الصبي (يكون أحد أبويه) (١) مسلما قالا: هو مع المسلم، يرث المسلم ويرثه المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حماد سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جس کے والدین میں سے کوئی ایک مسلمان ہو، فرمایا کہ وہ مسلمان کا وارث ہوگا اور اس کا وارث مسلمان ہوگا۔
٣٣٥٩٧ - حدثنا ابن علية عن عثمان (البتي) (١) عن عبد الحميد بن سلمة عن أبيه عن جده أن أبويه اختصما فيه إلى النبي ﷺ أحدهما مسلم والآخر كافر- فخيره (فمال) (٢) إلى الكافر فقال: "اللهم اهده"، فتوجه إلى المسلم فقضى له به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الحمید بن سلمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھگڑا کرنے لگے جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا کافر تھا، آپ نے ان کو اختیار دے دیا، اور وہ کافر کی طرف مائل ہوگئے، آپ نے فرمایا : اے اللہ ! اس کو ہدایت فرما دے، چناچہ وہ مسلمان کی طرف مائل ہوگئے ، آپ نے اس کا مسلمان کے لئے فیصلہ فرما دیا۔
٣٣٥٩٨ - حدثنا أبو معاوية عن أشعث عن الحسن عن عمر قال: الولد مع الوالد المسلم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اولاد والدین میں سے مسلمان کے ساتھ ہوگی۔
٣٣٥٩٩ - حدثنا أبو معاوية عن أشعث عن الشعبي عن شريح مثله.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی حضرت شریح سے یہی مضمون نقل کرتے ہیں۔
٣٣٦٠٠ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن الشعبي عن شريح قال: هو (للوالد) (١) المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
شعبی حضرت شریح سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا کہ وہ مسلمان والد کے لئے ہوگا۔
٣٣٦٠١ - حدثنا (أبو) (١) خالد عن حجاج عن عطاء والحسن في اليهودي والنصراني يسلم الولد مع المسلم.
مولانا محمد اویس سرور
حجاج حضرت عطاء اور حسن رحمہ اللہ سے اس یہودی اور نصرانی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جو مسلمان ہوجائے، کہ ان کا بیٹا مسلمان کے لئے ہوگا۔
٣٣٦٠٢ - حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن أنه قال: إذا ماتت (امرأة) (١) يهودية أو نصرانية تحت مسلم له منها أولاد صغار، فإن الولد مع أبيهم المسلم، فإن ماتوا وهم صغار فميراثهم لأبيهم المسلم، ليس لأمهم من الميراث شيء ما داموا صغارًا.
مولانا محمد اویس سرور
ہشام حسن سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہودی یا نصرانی عورت مرجائے اور وہ مسلمان کے نکاح میں ہو جس سے اس کی نابالغ اولاد ہو تو بچہ اپنے مسلمان باپ کے ساتھ ہوگا، پس اگر وہ بچپن ہی میں مرجائیں تو ان کی میراث ان کے مسلمان باپ کے لئے ہوگی، اور ان کی ماں کا میراث میں کچھ حصّہ نہیں، جب تک وہ نابالغ ہوں۔