کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: دادا کا بیان ، اور ان حضرات کا ذکر جو اس کو باپ کے درجے میں رکھتے ہیں
❮
❯
٣٣٣٠١ - حدثنا عبد الأعلى عن خالد عن أبي نضرة عن أبي سعيد أن أبا بكر كان يرى الجد أبًا (١)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دادا کو باپ جیسا ہی سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33301
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الدارمي (٢٩٠٣)، والبيهقي ٦/ ٢٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33301، ترقيم محمد عوامة 31853)
٣٣٣٠٢ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن أبي (بردة) (١) عن كردوس بن عباس الثعلبي عن أبي موسى أن أبا بكر جعل الجد أبا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
کردوس بن عباس حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دادا کو باپ جیسا ہی سمجھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33302
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كردوس صدوق، أخرجه الدارمي (٢٩٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33302، ترقيم محمد عوامة 31854)
٣٣٣٠٣ - حدثنا وكيع عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة قال: قال ابن الزبير: إن الذي قال فيه رسول اللَّه ﷺ: "لو كنت متخذا خليلًا لاتخذته خليلًا"، ⦗٢٩٢⦘ جعل الجد أبًا، يعني: أبا بكر (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک وہ صاحب جن کے بارے میں حضور ﷺ نے یہ فرمایا : اگر میں کسی کو اپنا دوست بناتا تو ضرور ابوبکر کو دوست بناتا، انہوں نے دادا کو باپ کے قائم مقام قرار دیاے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33303
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ صرح ابن جريج بالسماع كما عند عبد الرزاق (١٩٠٤٩)، ولاحظ الخطأ المطبعي وعدله من المحلى ٩/ ٢٧٨، وإعلام الموقعين ١/ ٣٧٩، أخرجه البخاري (٣٦٥٨)، وأحمد (١٦١١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33303، ترقيم محمد عوامة 31855)
٣٣٣٠٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن فرات القزاز عن سعيد بن جبير قال: كتب ابن الزبير إلى عبد اللَّه بن عتبة أن أبا بكر كان يجعل الجد أبا (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک دوسری سند سے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ مسلک نقل فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33304
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٦١٥٢)، وأبو يعلى (٦٨٠٥)، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣٠٧، وابن عساكر ٣٠/ ٢٤٤، ووكيع في أخبار القضاة ٢/ ٤٠٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33304، ترقيم محمد عوامة 31856)
٣٣٣٠٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن خالد عن عبد الرحمن بن معقل قال: كنت عند ابن عباس فسأله رجل عن الجد فقال له ابن عباس: أي أب لك أكبر؟ فلم يدر الرجل ما يقول، فقلت أنا: آدم، فقال ابن عباس: إن اللَّه يقول: ﴿يَا بَنِي اَدَمْ﴾ (١).
مولانا محمد اویس سرور
عبد الرحمن بن معقل فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان سے ایک آدمی نے دادا کے بارے میں سوال کیا، آپ نے اس سے فرمایا : تمہارا کون سا باپ بڑا ہے ؟ اس آدمی کو اس کا جواب سمجھ نہیں آیا، میں نے عرض کیا : حضرت آدم علیہ السلام ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ خو د ارشاد فرماتے ہیں : اے آدم کے بیٹو !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33305
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عبد الرحمن بن معقل صدوق، أخرجه الدارمي (٢٩٢٤)، والبيهقي ٦/ ٢٤٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33305، ترقيم محمد عوامة 31857)
٣٣٣٠٦ - حدثنا ابن فضيل عن ليث عن طاوس عن أبي بكر وابن عباس وعثمان أنهم جعلوا الجد أبًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس نے حضرت ابو بکر، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ م کے بارے میں نقل فرمایا ہے کہ انہوں نے دادا کا حکم باپ جیسا ہی قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33306
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث ضعيف، وطاوس لم يدرك أبا بكر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33306، ترقيم محمد عوامة 31858)
٣٣٣٠٧ - حدثناحفص عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس أنه جعله أبا (١).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی مسلک نقل کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33307
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحجاج صدوق صرح بالتحديث عند عبد الرزاق، وأخرجه عبد الرزاق (١٩٠٥٤)، والدارمي (٢٩٢٦)، وسعيد بن منصور (٤٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33307، ترقيم محمد عوامة 31859)
٣٣٣٠٨ - حدثنا (ابن) (١) مهدي عن مالك بن أنس عن الزهري عن قبيصة بن ⦗٢٩٣⦘ ذؤيب أن عمر كان يفرض للجد الذي يفرض له الناس اليوم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
قبیصہ بن ذؤیب سے منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ دادا کے لئے وہی حصّہ مقرر فرماتے تھے جو آج کل کیا جاتا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی مراد حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33308
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مالك (١٥٧٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33308، ترقيم محمد عوامة 31860)
٣٣٣٠٩ - قلت له: يعني قول زيد (بن ثابت؟) (١) قال: نعم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33309
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33309، ترقيم محمد عوامة ---)
٣٣٣١٠ - حدثنا وكيع عن الربيع عن عطاء عن أبي بكر قال: الجد بمنزلة الأب ما لم يكن أب دونه، (وابن) (١) الابن بمنزلة الابن ما لم يكن ابن دونه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
عطاء حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ دادا باپ کے درجے میں ہے جب تک اس کے نیچے باپ موجود نہ ہو، اور پوتا بیٹے کی طرح ہے جبکہ بیٹا موجود نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33310
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33310، ترقيم محمد عوامة 31861)
٣٣٣١١ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن إسماعيل بن سميع قال: قال رجل لأبي وائل: إن أبا بردة يزعم أن أبا بكر جعل الجد أبا؟ فقال: كذب، لو جعله أبا لما خالفه عمر (١).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل بن سمیع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابو وائل سے پوچھا کہ حضرت ابو بردہ یہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادا کو باپ جیسا قرار دیا ہے ؟ فرمانے لگے : اس نے جھوٹ کہا : اگر انہوں نے اس کو باپ جیسا قرار دیا ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہان کی مخالفت نہ کرتے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفرائض / حدیث: 33311
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 33311، ترقيم محمد عوامة 31862)