٣٢٢٤٤ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن يحيى عن مسروق عن عبد اللَّه أنه كره (التعشير) (١) في المصحف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مصحف میں اعشار کی نشانی ڈالنا مکروہ سمجھتے تھے۔
٣٢٢٤٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء أنه كان يكره (التعشير) (١) في المصحف، وأن يُكتب فيه (شيء) (٢) من غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء مصحف میں اعشار کی نشانی لگانا مکروہ سمجھتے تھے۔ اور یہ بھی کہ اس میں قرآن کے علاوہ کوئی اور بات لکھی جائے۔
٣٢٢٤٦ - حدثنا (أبو) (١) خالد عن حجاج عن حماد عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد نے بھی ابراہیم سے ما قبل جیسی حدیث نقل کی ہے۔
٣٢٢٤٧ - حدثنا المحاربي عن ليث عن مجاهد أنه كان يكره أن يكتب (تعشير) (١) أو تفصيل، ويقول: سورة البقرة، ويقول: السورة التي تذكر فيها البقرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد مکروہ سمجھتے تھے کہ مصحف میں اعشار کی نشانی لگائی جائے یا کسی چیز کی تفصیل لکھی جائے اور یوں کہنا بھی مکروہ سمجھتے تھے، سورة البقرۃ، اور یوں کہتے : وہ سورت جس میں بقرہ کا ذکر ہے۔
٣٢٢٤٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ليث عن مجاهد أنه كره (التعشير) (١) في المصحف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے مصحف میں اعشار کی نشانی لگانا ناپسند کیا۔
٣٢٢٤٩ - (١) حدثنا عبدة عن الزبرقان قال: قلت لأبي رزين: إن عندي مصحفًا أريد أن أختمه بالذهب، وأكتب عند أول سورة آية كذا وكذا، ⦗٤٨٥⦘ (فقال) (٢) أبو رزين: لا (تزيدن) (٣) فيه شيئًا من أمر الدنيا قل ولا كثر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو رزین سے عرض کیا : میرے پاس ایک مصحف ہے میں چاہتا ہوں کہ اس پر سونے کی مہر لگا ؤں اور ہر سورت کے شروع میں لکھ دوں۔ اتنی اور اتنی آیات ؟ تو حضرت ابو رزین نے فرمایا : تم قرآن میں اس چیز کو مت زیادہ کرو جو دنیا کی چیزیں ہیں نہ تھوڑی نہ زیادہ۔
٣٢٢٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن محمد أنه كان يكره الفواتح والعواشر التي فيها قاف وكاف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ محمد ان نشانیوں کو قرآن مجید میں مکروہ سمجھتے تھے۔ جن میں قاف اور کاف ہو۔
٣٢٢٥١ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره التعشير في المصحف] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم مکروہ سمجھتے تھے مصحف میں اعشار کی نشانی لگانے کو۔
٣٢٢٥٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره (النقط) (١) وخاتمة سورة كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم مکروہ سمجھتے تھے مصحف میں نقطے لگانے کو اور سورة کے اختتام پر اس طرح اور اس طرح نشانی لگانے کو۔
٣٢٢٥٣ - حدثنا أبو خالد عن حجاج عن شيخ عن عبد اللَّه أنه رأى خطا في (مصحف) (١) (فحكه) (٢) وقال: لا تخلطوا فيه غيره (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج اپنے استاذ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مصحف میں خاص نشان لگا دیکھا تو اس کو مٹا دیا اور فرمایا : قرآن میں اس کے غیر کی آمیزش مت کرو۔
٣٢٢٥٤ - حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن عطاء أنه كان يكره (التعشير) (١) في المصحف وأن يكتب فيه شيء من غيره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء ناپسند کرتے تھے کہ مصحف میں اعشار کی نشانی لگائی جائے اور اس میں قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز لکھی جائے۔
٣٢٢٥٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن شعيب بن الحبحاب أن أبا العالية كان يكره العواشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب بن الحبحاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ اعشار کے نشان ڈالنے کو ناپسند کرتے تھے۔