٣٠٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يزيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى أن عليًّا كان إذا شهد عنده الشهود على الزنا أمر الشهود أن يرجموا، (ثم رجم) (١) (٢)، ثم رجم الناس، وإذا كان إقرارا، بدأ هو فرجم، ثم رجم الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جب گواہ زنا کی گواہی دیتے پھر آپ گواہوں کو پتھر مارنے کا حکم دیتے پھر آپ پتھر مارتے پھر لوگ پتھر مارتے اور جب اقرار کرتا تو آپ خود ابتدا کرتے سو اسے پتھر مارتے پھر لوگ اسے پتھر مارتے۔
٣٠٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن الحسن ابن (سعد) (١) عن عبد الرحمن بن عبد اللَّه بن مسعود عن علي قال: (يا) (٢) أيها الناس إن الزنا زناءان: زنا سر وزنا علانية، فزنا السر أن يشهد الشهود فيكون الشهود أول من يرمي، ثم الإمام، ثم الناس، وزنا العلانية أن يظهر الحبل أو الاعتراف فيكون الإمامُ أولَ من يرمي، قال: وفي يده ثلاثة أحجار، قال: فرماها بحجر فأصاب صماخها فاستدارت ورمى الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو بیشک زنا دو طرح کا ہوتا ہے۔ پوشیدہ زنا اور اعلانیہ زنا پس پوشیدہ زنا تو یہ ہے کہ گواہ زنا کی گواہی دیں سو گواہ سب سے پہلے پتھر مارنے والے ہوں گے پھر حاکم پھر لوگ اور اعلانیہ زنا یہ ہے کہ حمل ظاہر ہوجائے یا اعتراف کرلے سو امام سب سے پہلے پتھر مارنے والا ہوگا راوی کہتے ہیں آپ کے ہاتھ میں کچھ پتھر تھے سو آپ نے اس عورت کو ایک پتھر مارا جو اس کے کان کے سوراخ میں جا لگا تو وہ گھومنے لگی اور لوگوں نے پتھر مارے۔
٣٠٧٣٩ - حدثنا (أبو بكر قال) (١): أبو خالد الأحمر عن حجاج عن القاسم ⦗٥٠٩⦘ عن أبيه عن علي مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی بعنہا منقول ہے۔
٣٠٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: سمعت عمرو بن نافع يحدث عن علي قال: الرجم رجمان: (فرجم) (١) يرجم الإمام ثم الناس ورجم (يرجم) (٢) الشهود، ثم الإمام ثم الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن نافع فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : رجم کی دو قسمیں ہیں ایک رجم وہ جو حاکم پتھر مارتا ہے پھر لوگ اور ایک رجم وہ جو گواہ پتھر مارتے ہیں پھر حاکم پھر لوگ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت حکم سے عرض کی : امام کا رجم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب وہ عورت بچہ پیدا کرلے یا وہ اقرار کرلے اور گواہوں کا رجم یہ ہے کہ جب وہ گواہی دے دیں۔
٣٠٧٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: قلت للحكم: ما رجم الإمام؟ قال: إذا ولدت أو أقرت، وإذا شهد الشهود بدأ الشهود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا حاکم کا رجم کرنا کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب عورت بچہ پیدا کرلے یا اقرار کرلے اور جب گواہ گواہی دے دیں، تو گواہ ہی ابتدا کریں گے۔