کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس نے عورت کو عمداً(جان بوجھ کر) قتل کردیا ہو
٢٩٢٧٤ - (١) حدثنا أبو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة العبسي قال: حدثنا علي بن مسهر عن سعيد عن قتادة عن أنس أن يهوديًّا رضخ رأس امرأة بحجر (٢) فرضخ النبي ﷺ رأسه بين حجرين (٣).
٢٩٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام الدستوائي عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن عمر قتل ثلاثة نفر من أهل صنعاء بامرأة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے صنعاء کے تین باشندوں کو ایک عورت کے بدلے میں قصاصاً قتل کیا۔
٢٩٢٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت عامر شعبی ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب آدمی عورت کو عمداً قتل کردے تو اس عورت کے بدلے میں آدمی کو قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
٢٩٢٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن ليث عن الحكم عن علي وعبد اللَّه قالا: إذا قتل الرجل المرأة متعمدًا فهو بها قود (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب آدمی عورت کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کے بدلے میں آدمی کو قصاصاً قتل کیا جائے گا۔
٢٩٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر (عن) (١) ابن جريج عن عطاء قال: يقتل وليس بينهما فضل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے حضرت عطاء نے ارشادفرمایا : اسے قتل کیا جائے گا آدمی اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔