٢٩١٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي قيس عن هزيل قال: (قال) (١) رسول اللَّه ﷺ: "الرجل جبار" يعني: هدرًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہزیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جانور کی ٹانگ سے لگنے والا زخم رائیگاں ہے۔
٢٩١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن أشعث عن الشعبي قال: صاحب الدابة ضامن لما أصابت الدابة بيدها أو برجلها، حتى ينزل عنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جانور کا مالک ضامن ہوگا اس نقصان کا جو جانور کی اگلی یا پچھلی ٹانگوں سے ہوا ہو یہاں تک کہ وہ جانور سے اتر آئے۔
٢٩١٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن رجل واقفٍ على (دابته) (١) فضربت برجلها فقال حماد: لا يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو اپنی سواری کے پاس کھڑا تھا اور اس کی سواری نے کسی کو اپنی ٹانگ مار دی تو حضرت حما د نے فرمایا : اس شخص کو ضامن نہیں بنایا جائے گا۔ اور حضرت حکم نے فرمایا : اس شخص کو ضامن بنایا جائے گا۔
٢٩١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عاصم عن ابن سيرين قال: ما كانوا يضمّنون من الرجل إلا ما (رد) (١) العنان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین نے ارشاد فرمایا : کہ صحابہ جانور کی ٹانگ سے مارے جانے کی صورت میں ضامن نہیں بناتے تھے مگر جبکہ لگام کو چھوڑ دیا ہو۔
٢٩١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث قال: إذا ضربت (الدابة) (١) أو (كبحتها) (٢) فأنت ضامن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت حارث نے ارشاد فرمایا : جب تم نے جانور کو مارا یا تم نے اس کو روکنے کے لیے لگام کھینچی پھر اس نے کسی کو نقصان پہنچا دیا تو تم ضامن ہوگے۔